۱؎ جو تفصیل وار مجھے یاد نہیں ہوسکتے وہ مجھ پر غالب ہیں،معلوم ہوا کہ مکمل عالم بننا فرض نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے،ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں تمام مسائل سیکھنے کا حکم دیتے۔
۲؎ غالبًا سائل کا سوال نوافل کے متعلق تھا،اس لیے انہیں یہ جواب دیا گیا مقصد یہ ہے کہ ہر وقت زبان پر کوئی ذکر اﷲ جاری رہے نہ معلوم موت کب آجائے جب بھی ملک الموت تمہاری جان نکالنے آئیں تو تمہیں غافل نہ پائیں،اﷲ تعالٰی ایسی زندگی نصیب کرے،رطب فرما کر اشارۃً بتایا کہ جیسے تر لکڑی آگ میں نہیں جلتی ایسے ہی اﷲ کا ذکر زبان کی تری ہے جس سے بندہ دوزخ میں نہ جل سکے گا۔
۳؎ یہ حدیث ابن حبان،ابن ابی شیبہ اور حاکم نے بھی روایت کیا۔