Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
502 - 5479
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 502
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں ایک حلقہ پرگزرے ۱؎ پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے ہم اﷲ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں ۲؎ فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں اسی چیز نے بٹھایا ہے بولے اﷲ کی قسم ہمیں اس کے سوا کسی اور چیز نے نہ بٹھایا ۳؎ فرمایا میں نے تم پر تہمت کی بنا پر تم سے قسم نہ لی۴؎ ایسا کوئی نہیں جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے مجھ جیسا قرب ہو۵؎ پھر وہ آپ سے احادیث مقابلہ کرے کم روایت کرے ایک بار رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ کے ایک حلقہ پرتشریف لائے تو پوچھا تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھایا وہ بولے ہم اﷲ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں اس کا شکر کررہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی ہم پر بڑا احسان کیا ۶؎ فرمایا کیا خدا کی قسم تمہیں صرف اس چیز نے بٹھایا ہے وہ بولے اﷲ کی قسم ہم کو اس کے سواءکسی اور چیز نہ بٹھایا فرمایا میں نے تم پر تہمت رکھتے ہوئے تم سے قسم نہ لی ۷؎ لیکن میرے پاس جبریل آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ اﷲ تم سے فرشتوں پر فخر کررہا ہے ۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ کچھ لوگ مسجد نبوی یا کسی اور مسجد میں ذکر اﷲ کے لیے حلقہ بنائے بیٹھے تھے،نماز کے انتظار میں نہ بیٹھے تھے،کیونکہ اس وقت صف بستہ بیٹھنا چاہیئے حلقہ بنانا منع ہے،لہذا یہ حدیث حلقہ بنانے کی ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔

۲؎ اس طرح کہ ایک صاحب ذکر خیرکررہے ہیں اور باقی حضرات سن رہے ہیں،گویا مجلس وعظ کی مجلس ہے یا باری باری سے ہرشخص ذکر اﷲ کررہا ہے یا سب ملکرکلمہ طیبہ وغیرہ پڑھ رہے ہیں۔

۳؎ پہلا اﷲ اصل میں اواﷲ تھا ہمزہ استفہامیہ واؤ قسمیہ،واؤ کوالف سے بدل دیا گیا،اور لفظ اﷲ کو جر ہے بعض نسخوں میں زبر بھی ہے اس کی دوسری توجیہ ہے یعنی کیا خدا کی قسم تم لوگ صرف ذکر کے لیے ہی بیٹھے ہو دوسرے اﷲ کی اصل عبارت یہ ہے اِوِیْ یا نعم نقسم باﷲ۔

۴؎ یعنی میں نے آپ حضرات کو جھوٹا سمجھ کر قسم نہ لی ہے آپ حضرات صحابہ کرام ہیں صحابہ سب عادل ہیں بلکہ ادائے سنت کے لیے یہ قسم لی ہے۔

۵؎ کیونکہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا سالا بھی ہوں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا بھائی ہوں اور کاتب وحی بھی ہوں اسی لیے مولانا روم نے حضرت امیر معاویہ کو مسلمانوں کا امام فرمایا مگر روایت حدیث بہت کم کرتا ہوں احتیاط کے لیے دیکھو حضرت ابوبکر صدیق عمر بھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے مگر آپ نے روایت حدیث بہت کم فرمائیں،اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت امیرمعاویہ کو حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق سے بھی زیادہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب رہا ہو،بلکہ آپ جن لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں یا جو آپ کے زمانہ میں صحابہ موجود تھے ان کے مقابلہ میں اپنی جزوی فضیلت قرب بیان فرمارہے ہیں۔ خیال رہے کہ جن صحابہ نے حدیث کی روایت بالمعنی جائز سمجھی تھی وہ احادیث زیادہ روایت کرتے تھے اور جن کے نزدیک روایت بالمعنی جائز نہ تھی وہ بہت کم روایت کرتے تھے حضرت امیر معاو یہ دوسری جماعت سے ہیں۔

۶؎ معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی کی سب سے بڑی نعمت ہدایت ایمان ہے اور سب سے بڑا احسان حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا دامن پاک ہاتھ آجانا ہے،خود فرماتاہے:"بَلِ اللہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمْ اَنْ ہَدٰىکُمْ لِلْاِیۡمٰنِ"اور فرماتاہے:"لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا"۔ایمان اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری کے سواء کسی اور نعمت پر رب تعالٰی نے لفظ من ارشاد نہیں فرمایا۔شعر 

رب اعلیٰ کی نعمت پر اعلیٰ درود 			حق تعالٰی کی منت پہ لاکھوں سلام

یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری کے شکریہ کے لیے مجلسیں کرنا حلقے بنا کر بیٹھنا سنت صحابہ ہے یہ حدیث مجلس میلاد شریف کی اصل ہے۔

 ۷؎ کیونکہ ہر مؤمن پر عمومًا اور صحابہ کرام پر خصوصًا بدگمانی کرنا جائز نہیں بلکہ یہ قسم نہیں تمہاری عظمت و عزت کے اظہار کے لیے ہے۔

۸؎ اس طرح کہ فرشتوں سے فرمارہا ہے میرے ان بندوں کو دیکھو کہ نفس و شیطان کے تسلط میں ہیں،دنیاوی رکاوٹیں موجود ہیں،شہوت و غضب رکھتے ہیں اتنی رکاوٹیں ہوتے ہوئے سب پر لات مار کر میرا ذکر کررہے ہیں یقینًا تمہارے ذکر سے میرا یہ ذکر افضل ہے،چونکہ فرشتوں ہی نے انسان کی شکایت کی تھی کہ وہ خون ریزو فسادی ہوگا اس لیے انہی کو یہ سنایا جارہا ہے کہ دیکھو اگر انسان میں فساد ی ہیں تو ایسے نمازی و غازی بھی ہیں جو نفس و شیطان و طغیان و کفار سب سے ہی جہاد کرتے رہتے ہیں۔
Flag Counter