۱؎ کیونکہ ہمارے کلام یا تو گناہ ہوتے ہیں جن کا مضر ہونا ظاہر ہے یا عبث و بے فائدہ جو لہو ولعب میں داخل ہیں یہ بھی وبال ہوئے اور جائز کلام بھی جب فائدہ اور ثواب سے خالی ہوئےتو آخرت میں ہم کو وبال محسوس ہوں گے،جیسے سفر میں غیرضروری سامان لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ خیال رہے کہ کل قیامت میں عبث کام ہم پر سوار ہوں گے اور نیک کاموں پر ہم سوار ہوں گے،لہذا عبث بھی وبال ہے۔
۲؎ کہ یہ تینوں نیکیاں وبال نہیں بلکہ نیک اعمال ہیں،پہلی دو نیکیاں متعدی ہیں اور آخری تیسری نیکی لازم اگرچہ تبلیغ بھی ا ﷲ کا ذکر ہی ہے مگر وہ بالواسطہ ذکر ہے اور یہاں بلاواسطہ ذکر مراد ہے اس لیے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا،ذکر اﷲ میں سارے اذکار الٰہی داخل ہیں تلاوت قرآن ہو یا درود شریف یا کوئی اور ذکر خیر۔(مرقات)