۱؎ اگرچہ ذکر اﷲ میں درود شریف بھی داخل تھا مگر چونکہ درود شریف ذکر اﷲ کی بہترین قسم ہے اس لیے اس کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا کیونکہ درود پاک میں اﷲ تعالٰی کا نام بھی ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا چرچہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کی آل اولاد کو دعائیں بھی۔
۲؎ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا مجلسوں میں جھوٹ غیبت وغیرہ گناہ ہوجاتے ہیں،اگر ان میں حمد و صلوۃ وغیرہ بھی ہوتی رہے تو اس کی برکت سے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اگر مجلس ان خیر ذکروں سے خالی ہو تو گناہ تو پایا گیا،کفارہ نہ ادا ہوا لہذا اب پکڑ اور سزا کا سخت اندیشہ ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اس جملہ میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:"وَلَوْاَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ"الایہ۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر بھی معافی گناہ کا ذریعہ ہے اس جملہ سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مجلس میں اﷲ رسول کا ذکر ہو تو اس کے گناہ یقینًا بخشے جائیں گے رب تعالٰی کا وعدہ ہے۔