۱؎ یہاں زیادہ باتوں سے مراد بیکار باتیں ہیں جن کا کوئی فائدہ نہ ہو لہذا تجارتی باتیں گھریلو مفید باتیں جتنی بھی ہوں زیادہ باتوں میں شامل نہیں۔
۲؎ سختی دل کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس میں وعظ نصیحت اثر نہیں کرتا،کبھی انسان اپنے گزشتہ گناہوں پر روتا نہیں آیات الہیہ میں غورنہیں کرتا اﷲ تعالٰی محفوظ رکھے زیادہ کلام اور بہت ہنسنا دل کو سخت کرتا ہے اور زیادہ ذکر اﷲ یا اللہ والوں کی صحبت موت کی یاد آخرت کا دھیان قبرستان کی زیارت دل میں نرمی پیدا کرتی ہے۔
۳؎ یہاں دل سے مراد دل والا ہے یعنی سخت دل والا آدمی دنیا میں بھی اﷲ سے دور ہے اور آخرت میں بھی اسی لیے اﷲ تعالٰی نے قرآن کریم میں سختی دل کی بہت برائیاں بیان فرمائی ہیں فرماتاہے:"ثُمَّ قَسَتْ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ"اور فرماتاہے:"اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِاللہِ"۔جب تک لوہا سخت ہے کچھ نہیں بن سکتا ہے مگر جب نرم ہوگیا تو اسے جس طرح چاہو ڈھال لو،اور جو چاہو اس کا بنالو،یوں ہی سخت دل نہ مؤمن بن سکے نہ عارف نہ متقی نہ پرہیزگار مگر دل نرم ہو کر ولی غوث و قطب سب کچھ بن جاتا ہے،لوہا نرم کرنے کے لیے یہ آگ چاہیئے اور دل نرم کے لیے عشق کی آگ درکار ہے رب تعالٰی نصیب کر ے پھر فقط عشق کی آگ کافی نہیں،بلکہ ساتھ میں کسی کاریگر کے ہتھوڑے کی چوٹ بھی ضروری ہے،مصرع۔
چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی،غرضکہ دل کے لیے آگ عشق تو نرم کرنے والی چیز ہے،صحبت نیک عمدہ سانچہ ہے۔نگاہ مرد کامل کاریگر کا ہنر ہے ان تین چیزوں سے قلب کچھ کار آمد بنتا ہے۔