Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
494 - 5479
حدیث نمبر 494
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن بسر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کون شخص اچھا ہے فرمایا مژدہ ہو اسے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں ۲؎ عرض کیا یارسول اﷲ کون سا عمل افضل ہے فرمایا یہ کہ تم دنیا کو اس حال میں چھوڑو کہ تمہاری زبان اﷲ کے ذکر سے تر ہو۳؎(احمد،ترمذی)
شرح
۱؎ آپ خود اور آپ کے والد بسر آپ کے بھائی عطیہ،آپ کی بہن صحاء تمام صحابہ ہیں یہ حضرات ایک ساتھ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں کھانا کھلایا اور ان کے لیے دعاء خیر فرمائی، شام میں سب سے آخری صحابی آپ ہی ہیں۔(اشعہ)

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ فرمان خبر ہے اور طوبیٰ سے مراد مژدہ و خوشخبری ہے بعض نے فرمایا کہ یہ کلام دعائیہ ہے اور طوبیٰ سے مراد جنت کا مشہور درخت طوبیٰ ہے یعنی جس کی عمر دراز اور اعمال نیک ہوں،خدا کرے اسے طوبیٰ درخت ملے مگر یہ خلاف ظاہر ہے۔(مرقات)

۳؎ دنیا چھوڑنے سے مراد مرنا ہے،یعنی جب تمہیں موت آئے تو تمہاری زبان اﷲ کے ذکر میں چل رہی ہو،یا ابھی ابھی چل چکی ہو لہذا اس میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جن کی زبان مرتے وقت بند ہوتی ہیں۔مگر بند ہوتے وقت ذکر اﷲ پر بند ہوئی تھی۔ تر سے مطلب یہ ہے کہ اﷲ کا نام بہ آسانی اس کی زبان پر جاری ہو تر لکڑ ی کو آگ نہیں جلاتی،اور تر زبان کو دوزخ کی آگ نہ جلائے گی ان شاءاﷲ۔حق تعالٰی ایسی موت نصیب کرے،بعض علماء نے فرمایا کہ ذکر قلبی سے ذکر زبانی بہتر ہے ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے،ذکر زبانی نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے جس کے فرشتے گواہ ہوتے ہیں اور ذکر قلبی کی نہ تحریر ہوتی ہے نہ گواہی ۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ طبرانی میں مرفوعًا حدیث نقل فرمائی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہر خشک و تر چیز وں کے پاس ذکر اﷲ کرو تاکہ یہ چیزیں تمہارے ایمان کی گواہ ہوں۔
Flag Counter