Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
495 - 5479
حدیث نمبر 495
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرو تو کچھ چرلیا کرو۱؎ لوگوں نے پوچھا جنت کی کیاریاں کیا ہیں فرمایا ذکر کے حلقے ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ معلوم ہوا کہ ذکر اﷲ غذاء روحانی ہے اور ذکر کے حلقے روحانی سبزہ زار جب انسان باغ کھیت سے گزرتا ہے تو کچھ کھاتا ہے لہذا جب ذکر اﷲ پر گزرے تو کچھ ذکر کرلے یا سن لے۔

 ۲؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ذکر الٰہی کے جلسوں میں جانا وہاں شرکت کرنا بہت بہتر ہے،لہذا میلاد شریف، درس قرآن، گیارھویں پاک اور عرس بزرگان میں شرکت افضل،دوسرے یہ کہ ذکر اﷲ کے لیے حلقے بنا کر بیٹھنا افضل ہے،نماز میں صف بستہ کھڑے ہو کر فرشتے صف بستہ حاضر رہتے ہیں اور ذکر اﷲ کے حلقے باندھو کہ جنتی لوگ حلقے بنا کر بیٹھا کریں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکْوَابٍ"۔تیسرے یہ کہ اکیلے ذکر سے جماعت میں ذکر کرنا اور سننا افضل ہے اس سے ذکر بالجہر کا ثبوت ہوا،اگر مجمع کے ذکر میں ایک کا بھی ذکر قبول ہوا تو سب کا قبول ہوگا۔
Flag Counter