Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
493 - 5479
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 493
روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں ایسے بہترین اعمال نہ بتادوں جو رب کے نزدیک بہت ستھرے اور تمہارے درجے بہت بلند کرنے والے اور تمہارے لیے سونا چاندی خیرات کرنے سے بہتر ہوں ۱؎ اور تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہو کہ تم دشمن سے جہاد کرو کہ تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہیں شہید کریں صحابہ نے عرض کیا ہاں فرمایا وہ عمل اﷲ کا ذکر ہے ۲؎ (مالک،احمد،ترمذی،ابن ماجہ)مگر مالک نے یہ حدیث حضرت ابوالدرداء پرموقوف کی۳؎
شرح
۱؎ یعنی بدنی و مالی عبادات سے افضل ہوں۔

 ۲؎ اگر یہاں ذکر اﷲ سے مراد زبانی ذکر ہے تو اس کی افضیلت کی وجہ یہ ہے کہ ذکر اﷲ بلاواسطہ رب تعالٰی تک پہنچاتا ہے اور دوسری عبادتیں بالواسطہ اور ظاہر ہے کہ بلاواسطہ پہنچانے والا بالواسطہ سے افضل ہے۔اور اگر ذکر سے مراد قلبی و دلی ذکر اﷲ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ذکر دلی عبادت ہے اور دوسری عبادات بدنی عبادت اور دل بادشاہ ہے۔اعضاء اس کی رعایا بادشاہ کا عمل بھی رعایا کے اعمال سے افضل ہے،اسی لیے رب تعالٰی نے قرآن کریم میں ذکر اﷲ کے بڑے درجے بیان فرمائے کہ فرمایا"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرو ں گا حدیث قدسی ہے "انا جلیس من ذکرنی"میں اپنے ذاکر کا ہم نشین ہوں۔ اس سے معلوم ہواکہ بعض آسان عمل مشکل عملوں سے درجہ  میں بھی بڑھ جاتے ہیں دیکھو ذکر اﷲ آسان ہے اور جہاد دشوار مگر ثواب میں ذکر اﷲ بڑھ گیا مگر یہ اس جہاد کا ذکر ہے جو اﷲ کی یاد سے خالی ہو،لیکن اگر ہاتھ میں تلوار اور زبان پر ذکر یار ہو تو سبحان اﷲ سب سے بہتر۔ شیخ نے فرمایا کہ بعض لازم عمل متعدی عمل سے بہتر ہوجاتے ہیں جیسا یہاں ہوا ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ جہاد میں کافروں کو مارا جاتا ہے اور ذکر اﷲ میں نفس و شیطان کو اسی لیے ذکر اﷲ جہاد اکبر ہے کہ اس میں دل کا تزکیہ ہے پھر ذکروں میں بعض ذکر دوسرے ذکروں سے افضل ہیں جیسے تلاوت قرآن شریف و درود شریف دوسرے اذکار سے بہتر ہیں۔

 ۳؎ یعنی مؤطا امام مالک میں تو یہ حدیث موقوف ہے اور باقی محدثین کے ہاں مرفو ع اسے حاکم نے بھی مستدرک میں مرفوعًا ہی نقل فرمایا۔
Flag Counter