| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت حنظلہ ابن ربیع اسیدی سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے حضرت ابوبکر صدیق ملے پوچھا حنظلہ کیسے ہو میں بولا کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ۲؎ فرمایا سبحان اﷲ کیا کہہ رہے ہو ۳؎ میں بولا ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہوتے ہیں،حضور جنت دوزخ کا ذکر ہمیں سناتے ہیں گویا وہ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۴؎ پھر جب ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے ہٹتے ہیں تو بیوی بچوں مال و اسباب میں گھل مل کر بہت سا بھول جاتے ہیں ۵؎ حضرت ابوبکر بولے اﷲ کی قسم ہم سب ہی کو یہ درپیش رہتا ہے ۶؎ پھر میں اور حضرت ابوبکر صدیق چلےحتی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ اقدس میں پہنچے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ حنظلہ تو منافق ہوگیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قصہ کیا ہے میں نے عرض کیا یارسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت و دوزخ کا ذکر یوں سناتے ہیں گویا وہ ہماری آنکھوں کے آگے ہیں۷؎ جب آپ کے پاس سے ہم نکلتے ہیں تو بیوی بچوں مال و اسباب میں مشغول ہوجاتے ہیں بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۸؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو تمہارا حال میرے پاس ہوتا ہے اگر اس پر ہمیشہ رہو ۹؎ تو فرشتے تمہارے بستروں پر تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کیا کریں ۱۰؎ لیکن اے حنظلہ وقتًا فوقتًا دو گھڑی تین بار فرمایا ۱۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ حنظلہ غسیل الملائکہ نہیں ہیں،بلکہ دوسرے صحابی ہیں،جو کاتبِ وحی تھے اسید ابن عمرو ابن تمیم کی اولاد سے ہیں،بڑی عمر پائی، حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ ۲؎ یعنی میر ی حالت منافقوں کی سی ہوئی کہ اس میں یکسانیت نہیں یہاں نفاق سے اعتقادی نفاق مراد نہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے اور نہ اس کلام میں اپنے کفر یا نفاق کا اقرار ہے آپ کا یہ قول انتہائی خوف خدا پر مبنی ہے،اقرار کفر تو کفر ہے،مگر اقرار گناہ جو خوفِ خدا سے ہو عین تقویٰ ہے حضرت یونس علیہ السلام نے عرض کیا تھا"اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ"حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا"رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنۡفُسَنَا"جیسے ان بزرگوں کو ظالم نہیں کہا جاسکتا ایسے ہی ان صحابی کو اس کلام کی بنا پر عاصی یامنافق نہیں کہا جاسکتا لہذا یہ حدیث روافض کی دلیل نہیں بن سکتی ۔ ۳؎ تم کو نفاق سے کیا نسبت تم صحابی رسول ہو کاتب وحی ہو اپنے کلام کا مطلب خود بیان کرو۔ ۴؎ یعنی اس وقت ہم کو خوف و امید اس درجہ کی ہوتی ہے گویا ہم جنت دوزخ دیکھ کر اس سے ڈر رہے ہیں اور اسے چاہ رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں عین الیقین نصیب ہوجاتا تھا نہ معلوم حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے ان کی نمازیں کیسی ہوتی ہوں گی۔اﷲ تعالٰی ان کی تجلی کچھ ہم کو بھی نصیب کرے۔ ۵؎ ضیعات ضیعۃٌ کی جمع ہے،ضیعہ وہ چیز ہے جس سے روزی وابستہ ہو اکثر زمین،باغات کھیتی باڑی کو ضیعہ کہا جاتا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ ہم پرگھر پہنچ کر کچھ غفلت طاری ہوجاتی ہے،دل کا حال وہ نہیں رہتا جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس پاک میں ہوتا ہے،دل کا یکساں حال نہ رہنا ہی حال کی منافقت ہے۔ ۶؎ یعنی یہ اختلاف حال صرف تمہارا ہی نہیں بلکہ ہم تمام صحابہ کا ہے،تو کیا ہم سب منافق ہوگئے یہ کیسے ہوسکتا ہے چلو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پوچھیں۔ ۷؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کا معجزہ تھا کہ آپ کے بیان سے عالم غیب گویا عالم شہادت بن جاتا تھا بعض علماء کی تقریر میں سامعین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے واقعہ سامنے ہورہا ہے،بار ہا ذکر معراج،ذکر ہجرت وغیرہ میں ایسا دیکھا گیا ہے،یہ بیان و اخلاص کا کمال ہے۔ ۸؎ بھول جانے سے مراد ہے توجہ تام نہ رہنا نہ کہ حفظ کا مقابل،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ جب صحابہ کا حافظہ اتنا کمزور تھا کہ فورًا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھول جاتے تھے تو ان سے روایت حدیث کیونکر د رست ہوئی۔ ۹؎ وفی الذکر کا واؤ عاطفہ ہے اور یہ جملہ ما کا بیان ہے اور ذکر سے مراد مشاہدہ و توجہ تام یعنی تمہارے قلب کا جو حال میر ی مجلس میں ہوتا ہے اور جو کشف و مشاہدہ تیقظ و بیداری یہاں ہوتی ہے،اگر ایسی ہی ہر وقت رہے۔ ۱۰؎ یعنی تو فرشتے تم سے علانیہ طور پر ملاقاتیں مصافحے کیا کریں ورنہ صحابہ کرام سے فرشتے مصافحے بھی کرتے تھے اور ملاقاتیں بھی مگر دوسری شکلوں میں۔ ۱۱؎ یعنی زندگی کی بعض گھڑیاں دینی انہماک کے لیے رہیں اور بعض گھڑیاں دنیاوی کاروبار کے لیے تاکہ دونوں جہاں آباد و قائم ر ہیں۔ایک ہندی شاعر نے کیا خوب کہا شعر تو دنیا میں ایسا ہو رہ جوں مرغابی ساگر میں ڈگر پہ اپنے ایسے جانا جوں چت ناری گاگر میں مرغابی دریا میں آکر تیرنے والا جانور بن جاتی ہے اور ہوا میں پہنچ کر پرندہ،پہاڑی عورت دو گھڑے سر پر ایک گھڑ ابغل میں دوسرا ہاتھ میں لٹکائے اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتی راستہ طے کرلیتی ہے،بیک وقت راستہ پر بھی نظر رکھتی ہے اور گھڑوں کا دھیان بھی اور سہیلی کی طرف توجہ بھی،ایسے ہی مسلمان مسجد میں پہنچ کر فرشتہ صفت بن جائے،بازار میں جا کر اعلیٰ درجہ کا تاجر،دنیاو دین دونوں کو سنبھالے،خالق و مخلوق سب کے حقوق ادا کرتا ہوا زندگی کا راستہ طے کرے،سبحان اﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے ۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی ہر ساعت اﷲ کے ذکر میں گزرتی ہے کہ دنیاوی کاروبار انہیں ذکر اللہ سے غافل نہیں کرتے اور بعض لوگوں کے ہاں تقسیم ہوتی ہے کہ بعض گھڑیاں رب تعالٰی کے ذکر میں اور بعض گھڑیاں دنیاوی مشغلہ میں،صحابہ کرام میں بھی انہیں دو قسم کے حضرات تھے حنظلہ دوسری جماعت سے تھے اس لیے ان سے یہ فرمایا گیا،اسی لیے حضرت حنظلہ سے خطاب فرمایا،صدیق اکبر سے خطاب نہ فرمایا کہ حضرت صدیق پہلی جماعت سے تھے۔