| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ کے کچھ فرشتے راستوں میں ذکر اﷲ والوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں ۱؎ پھر جب کسی قوم کو اﷲ کا ذکر کرتے پاتے ہیں،تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنے مقصد کی طرف آؤ ۲؎ چنانچہ وہ فرشتے ان ذاکرین کو اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں آسمان دنیا تک ہوجاتے ہیں۳؎ حضور نے فرمایا کہ رب تعالٰی تو علیم و خبیر ہے مگر ان سے پوچھتا ہے کہ میرے وہ بندے کیا کہتے تھے ۴؎ فرمایا عرض کرتے ہیں کہ تیری تسبیح و تکبیر تیری حمد اور تیری بزرگیاں بیان کررہے تھے ۵؎ فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرمایا وہ عرض کرتے ہیں تیری قسم انہوں نے تجھے کبھی نہیں دیکھا ۶؎ فرمایا ر ب تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیا ہو فرمایا وہ عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری بہت عبادت کریں اور تیری بہت بڑائی بولیں اور تیری بہت ہی تسبیح کریں ۷؎ فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے وہ مانگتے کیا تھے عرض کرتے ہیں تجھ سے جنت مانگ رہے تھے فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے،عرض کرتے ہیں یا رب تیری قسم نہیں دیکھی ۸؎ فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر وہ جنت دیکھ لیں تو کیا ہو فرمایا و ہ عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ جنت دیکھ لیں تو اس کے بہت حریص اور بہت طلبگار اور اس میں بہت راغب ہوجائیں ۹؎ فرماتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے فرمایا وہ عرض کرتے ہیں آگ سے ۱۰؎ فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے تو کیا انہوں نے آگ دیکھی ہے فرمایا عرض کرتے ہیں یارب تیری قسم نہیں دیکھی فرمایا رب فرماتا ہے اگر وہ لوگ دیکھ لیں تو کیا ہو فرمایا عرض کرتے ہیں اگر وہ لوگ دیکھ لیں تو اس سے بہت بھاگیں اس سے بہت ڈریں ۱۱؎ فرمایا پھر رب تعالٰی فرماتاہے میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ۱۲؎ فرمایا کہ ان فرشتوں میں سے ایک عرض کرتا ہے کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ذکر والوں سے نہ تھا۔وہ تو کسی کام کے لیے آیا تھا ۱۳؎ رب تعالٰی فرماتا ہے ذاکرین ایسے ہم نشین ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا ہے ۱۴؎ بخاری اور مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ اﷲ کے کچھ فالتو فرشتے چلنے پھرنے گھومنے والے ہیں جو ذکر کی مجلسیں ڈھونڈتے رہتے ہیں ۱۵؎ جب کوئی ایسی مجلس پائیں جہاں ذکر ہو تو ذاکرین کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۱۶؎ اور بعض بعض کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں ۱۷؎ حتی کہ ان لوگوں اور آسمان دنیا کے درمیان فضا بھر دیتے ہیں ۱۸؎ پھر جب لوگ بکھر جاتے ہیں ۱۹؎ تو وہ فرشے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں ۲۰؎ فرمایا کہ رب تعالٰی علیم و خبیر ہے مگر ان سے پوچھتا ہے کہاں سے آرہے ہو تو وہ عرض کرتے ہیں ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جو زمین میں تیری تسبیح،تکبیر تہلیل کررہے تھے ۲۱؎ اور تیری حمد و ثنا کرتے تھے تجھ سے دعائیں مانگ رہے تھے رب فرماتا ہے وہ مجھ سے مانگتے کیا تھے عرض کرتے ہیں تیری جنت مانگتے تھے ۲۲؎ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے عرض کرتے ہیں یا رب نہیں فرماتا ہے اگروہ میری جنت دیکھ لیں تو کیا ہو عرض کرتے ہیں مولا تیری پناہ مانگ رہے تھے فرماتا ہے کس چیز سے میری پناہ مانگتے تھے عرض کرتے ہیں تیری آگ سے فرماتا ہے کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے عرض کرتے ہیں نہیں فرماتا ہے اگر میری آگ دیکھ لیں تو کیا ہو ۲۳؎ عرض کرتے ہیں تجھ سے معافی مانگ رہے تھے فرمایا رب فرماتاہے میں نے انہیں بخش دیا جو مانگتے ہیں انہیں دے دیا اور جس سے پناہ مانگتے ہیں میں نے اس سے انہیں بچالیا۲۴؎ فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں یارب ان میں فلاں بندہ بڑا گنہگار تھا۲۵؎ وہ ان پرگزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا فرمایا رب فرماتاہے میں نے اسے بھی بخش دیا وہ ایسی قوم ہے جن کا ہم نشین بھی بدنصیب نہیں ہوتا۲۶؎
شرح
۱؎ یہاں فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو ذکر اﷲ سننے پر مقر ر ہیں راستوں سے مسلمان خصوصًا ذاکرین کے راستے مراد ہیں یعنی یہ فرشتے ذاکرین کے راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں تاکہ ان کی زیارت کریں اور ان سے اﷲ تعالٰی کا ذکر سنیں یعنی وقت سے پہلے وہ حضرات مجلس ذکر کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ انہیں ذاکرین اور ان کے محلوں کی خبر نہیں بے خبری میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ ۲؎ آؤ دوڑو ان ذاکرین کی زیارت کرو ان کی زبان سے اﷲ رسول کا ذکر سنو۔ معلوم ہوا کہ دو سروں سے رسول کا ذکر سننا بھی محبوب ہے اور محفل میلاد شریف گیارھویں شریف وغیرہ میں رحمت کے فرشتے شرکت کرتے ہیں کہ یہ بھی اﷲ رسول کے ذکر کی مجلسیں ہیں۔شعر فرشتےمحفل میلادمیں رحمت کےآتےہیں رسول اﷲخوداس بزم میں تشریف لاتےہیں اس شعر کے پہلے مصرع کی اصل یہ حدیث ہے دوسرے مصرع کی اصل آئندہ احادیث میں آئے گی۔ ۳؎ یعنی یہ فرشتے پرےبنا کر ان مجلس والوں پر اس طرح چھا جاتے ہیں جیسے رحمت کے بادل زمین پر اور یہ پرے آسمان تک پہنچتے ہیں کہ نیچے ایک پرہ اس کے اوپر دوسرا اس پر تیسرا۔ ۴؎ مجلس ختم ہونے پر لوگ تو اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اوریہ فرشتے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوجاتے ہیں تب رب تعالٰی ان سے یہ سوال فرماتا ہے مگر یہ سوال رب کی بے علمی سے نہیں بلکہ فرشتوں کو اگلے مضمون پر گواہ بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ ۵؎ یا تو بلا واسطہ یا بالواسطہ اس طرح کہ تیرے محبوبوں کا عظمت سے ذکر کررہے تھے اور تیرے دشمنوں کا حقارت سے تذکرہ کرتے تھے جیسا کہ شروع باب میں عرض کیا گیا۔ ۶؎ بغیر دیکھے تیرے عاشق ہیں اﷲ تعالٰی محبوب حقیقی ہے کہ بغیر دیکھے دلوں میں اس کا عشق ہے اس کا پر تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں کہ آج ان کا دیکھنے والا کوئی نہیں عاشق جانباز کروڑوں۔ ۷؎ یہ دونوں سوال تعجب کے اظہار کے لیے ہیں کہ جب میرے بندے مجھے بغیر دیکھے صرف میرے اوصاف سن کر میری ایسی والہانہ عبادت کر رہے ہیں تو اگر مجھے دیکھ لیں تو ان کی محبت و عبادت کا کیا حال ہو۔اس میں اشارۃً فرمایا جارہا ہے کہ اے فرشتوں تم نے تو کہا تھا انسان خونریز فاسد ہوگا دیکھو انہی انسانوں میں ایسے نمازی ذاکر بھی تو ہیں جن سے سارا عالم چھپا ہوا ہے اور عالم شہادت یعنی دنیا کے ہزار ہا جنجالوں میں گرفتار ہیں مگر پھر بھی رب کے ذاکر و پرستار ہیں۔معلوم ہوا کہ ایمان بالغیب رب تعالٰی کی بڑی نعمت ہے۔ ۸؎ صرف سن کر اس پر ایمان لائے اور اس کے طلبگار ہوگئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت پیدا ہوچکی ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ بعد قیامت پیدا ہوگی غلط کہتے ہیں اس کی مکمل بحث ہماری"تفسیرنعیمی"جلد اول اور"اسرار الاحکام"میں ملاحظہ فرمایئے۔اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی سے جنت مانگنا برا نہیں،ہاں صرف جنت حاصل کرنے کے لیے عبادت کرنا برا ہے عبادت تو صرف رضائے الٰہی کے لیے چاہیئے جنت اس کے فضل سے ملے گی۔ ۹؎ یعنی پھر تو یہ لوگ جنت کی طلب میں تارک الدنیا ہو بیٹھیں زن و فرزند کو بھول بیٹھیں کیونکہ معائنہ خبر سے زیادہ قوی ہے۔ معلوم ہوا کہ انسانوں سے جنت چھپانے میں ہزار ہا حکمتیں ہیں،اگر جنت دکھادی جاتی تو کوئی شخص کوئی دنیاوی کام نہ کرتا۔ ۱۰؎ یعنی دوزخ کی آگ سے خیال رہے کہ فرشتے یہ نہیں کہتے کہ دوزخ سے پناہ مانگ رہے تھے کیونکہ دوزخ میں داخلہ تو قیامت کے بعد ہوگا مگر آگ کا عذاب مرتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔اس لیے آگ کے عذاب سے پناہ مانگنا چاہیئے قرآن کریم نے جو جامع دعا ہم کو سکھائی ہے اس کے آخری میں ہے وقنا عذاب النار نیز دوزخ کے ٹھنڈے طبقوں میں بھی آگ ہی کا عذاب ہے گرم طبقوں میں آگ کے قریب سے عذاب ہے ٹھنڈے طبقوں میں آگ کی دوری سے عذاب جیسے دنیا میں گرم سرد موسموں میں سورج کی دوری و نزدیکی سے سردی گرمی ہوتی ہے۔ ۱۱؎ اس طرح کہ پھر دوزخ کے خوف سے دنیا میں عیش و آرام بھول جائیں،ہمیشہ روتے رہیں کبھی نہ ہنسیں۔معلوم ہوا کہ اگر وہ عالم ظاہر کردیا جائے تو یہ عالم تباہ ہوجائے اگر ر ب تعالٰی کا نظارہ یہاں ہوجائے تو کوئی کافر نہ رہے۔شعر کفرواسلام کےجھگڑےترےچھپنےسےبڑھے تو اگر پردہ اٹھا دے تو تو ہی تو ہو جائے ۱۲؎ گزشتہ ساری گفتگو اسی آخری جملہ کے لیے تھی کہ فرشتوں کو ان ذاکر مؤمنوں کی بخشش پر گواہ بنانا تھا خیال رہے کہ رب تعالٰی نے یہ نہ فرمایا کہ ان کے گناہ بخشتا ہوں کہ اس میں شبہ ہوتا کہ شاید پچھلے گناہ بخشے گئے بلکہ فرمایا انہیں بخشتا ہوں یعنی آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق دوں گا اور اگر کبھی ان سے کوئی گناہ ہو بھی جائے گا تو اس کی بخشش کا آج فیصلہ کئے دیتے ہوں،گناہ بخشنا اور ہے گنہگار کو بخشنا کچھ اور یہاں گنہگار کو بخشا گیا ہے۔ ۱۳؎ یعنی ذکر اﷲ سننے نہ آیا تھا بلکہ کسی کام کو جارہا تھا راستہ میں یہ مجلس نظر پڑی تو کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیا یا کھڑے کھڑے کچھ ذکر سن لیا یہ عرض و معروض اس کو بخشوانے کے لیے ہے۔معلوم ہوا کہ فرشتے ذاکرین کے بڑے خیر خواہ ہیں ہم کو بھی چاہیئے کہ ان کے لیے دعائے خیر کیا کریں،دلائل الخیرات میں بعض دعائیں فرشتوں کے لیے بھی آتی ہیں،ہمیں ان سے کام پڑتا ہے ان سے تعلق رکھنا چاہیئے۔ ۱۴؎ یعنی ان مجلس والوں کو تو ذکر کی وجہ سے بخش دیا اور اس گزرنے والے کو ان اچھوں کی صحبت کی برکت سے بخش دیا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ نیک صحبت ساری عبادات سے افضل ہے دیکھو صحابہ کرام سارے جہان کے اولیاء سے افضل ہیں کیوں اس لیے کہ صحبت یافتہ جناب مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں،اصحاب کہف کا کتا بھی بہترہوگیا اولیاء کی صحبت کی برکت سے۔مرقات نے فرمایا کہ اﷲ کی صحبت اختیار کرو،اگر نہ ہوسکے تو اﷲ کے پاس رہنے والوں کی صحبت کرو مولانا فرماتے ہیں۔شعر ہر کہ خواہد ہم نشینی باخدا اونشیند در حضور اولیاء ۱۵؎ یعنی ان فرشتوں کے ذمہ سوائے اس گھومنے پھرنے کے اور کوئی ڈیوٹی نہیں بعض صوفیاء ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں جہاں عرس وغیرہ مجلس ذکر ہوتی ہیں شرکت کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔(مرقات)فضل بعض نسخوں میں ف کے پیش ض کے فتح سے ہے یعنی دوسرے فرشتوں سے افضل۔ ۱۶؎ ا س طرح کہ اس ٹوٹی چٹائی پھٹے فرش پر بیٹھ جاتے ہیں جہاں ذاکرین بیٹھے ہیں کوئی اعلیٰ جگہ نہیں ڈھونڈتے تاکہ انہیں فیض دیں اور ان سے فیض لیں۔ ۱۷؎ یعنی بعض فرشتے ان بعض انسانوں کو یا بعض فرشتے بعض فرشتوں کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں کہ نیچے والے اوپر والوں کے پروں کے سایہ میں ہوجاتے ہیں۔ ۱۸؎ معلوم ہوا کہ ذاکرین کی آواز آسمان تک پہنچتی ہے کہ وہاں تک کے فرشتے سنتے ہیں جب بجلی کے ذریعہ آج انسانی آواز ہزار ہا میل تک پہنچتی ہے،تو نورانی آواز کہاں تک پہنچے گی۔ ۱۹؎ اس طرح کہ مجلس ختم ہوجاتی ہے اور لوگ اپنے اپنے گھروں یا کاموں کو چلے جاتے ہیں۔ ۲۰؎ کیونکہ یہ فرشتے تو صر ف مجلسی ذکر سننے آتے ہیں،اکیلوں کا ذکر سننا ان کا کام نہیں،اس کے لیے دوسرے فرشتے ہیں اس سے بھی معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر ذکر خفی سے افضل ہے یہ حدیث حضرات قادریہ چشتیہ کی دلیل ہے حضرات نقشبندیہ کی دلائل دوسری احادیث و آیات ہیں۔ ۲۱؎ وہ فرشتے ان بندو ں کے نام اور جگہ کا پورا پتہ عرض کرتے ہیں،سبحان اﷲ! ان لوگوں اور اس جگہ کے بھاگ جاگ جاتے ہیں کہ ذکر الٰہی کی برکت سے معصوموں کی زبان پر بارگاہِ الٰہی میں ان کے نام آجاتے ہیں،مبارک ہیں دینی مدرسے اورخانقاہیں جہاں ہمیشہ ہی اﷲ کا ذکر رہتا ہے۔شعر زہے مسجد و مکتب و خانقاہے کہ در دے بود قیل و قال محمد ۲۲؎ خیال رہے کہ جنت کی نسبت اﷲ تعالٰی کی طرف بھی ہوتی ہے جیسے یہاں ہے کیونکہ رب تعالٰی جنت کا خالق اورحقیقی مالک ہے اور کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف ہوتی ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بعطائے الٰہی جنت کے مالک ہیں۔رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ"۔اور کبھی مسلمانوں کی طرف کیونکہ یہ لوگ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے صدقے سے اس کے مستحق ہیں انہی کی خاطر بنائی گئی ہے۔شعر مسلمانوں کوکوئی خلدسےروکےتوکیوں روکے یہ اُمت ہے محمد کی وہ جنت ہے محمد کی ۲۳؎ مسلم،بخاری کی روایتوں میں فرق یہ ہوا کہ بخاری کی روایت میں تعجب کا اظہار بھی مذکور ہے اور فرشتوں کا جواب بھی مگر مسلم کی روایت میں فرشتوں کا جواب مذکور نہیں صرف اظہار تعجب کا ہی ذکر ہے فرشتے جواب دیتے ہیں مگر یہاں اس کا ذکر نہیں۔ ۲۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان ایسے موقعوں پر خصوصیت سے آخرت کی نعمتیں مانگیں صرف دنیا مانگنا اچھا نہیں آخرت مانگو دنیا ان شاءاﷲ خود بخود مل جائے گی پھول پتے ان شاءاﷲ خود مل جائیں گے گلدستہ میں پھول بغیر پتہ کے نہیں ہوتے۔ ۲۵؎ معلوم ہوا کہ فرشتے ہر بندے کو بھی پہچانتے ہیں اور ہرشخص کے تمام نیک و بد اعمال کی پوری پوری خبر رکھتے ہیں اور ہر شخص کے ہر ارادے سے باخبر ہیں ورنہ انہیں کیا خبر ہوتی کہ یہ بندہ کون ہے نیک ہے یا بد ہے یہاں کس ارادہ سے آیا ہے جب ان فرشتوں کا یہ حال ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے علم کا کیا پوچھنا۔ ۲۶؎ جب عام ذاکروں کی مجلس کی یہ برکت ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت پاک کیسی بابرکت ہوگی،ان کا نام لیوا کبھی بدنصیب نہیں ہوتا۔شعر سلام اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی سلام اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی دیکھو ایک گنہگار ان ذاکرین کی مجلس میں ایک آن کے لیے آیا تو بخشا گیا،تو جو حضرات سایہ کی طرح حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے ان کی مغفرت میں شک کیسا ان کے متعلق رب تعالٰی نے اعلان فرمادیا:"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی"۔