۱؎ یعنی جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے غافل کا دل ویران یا جیسے شہروں کی آبادی زندوں سے ہے مردوں سے نہیں ایسے ہی آخرت کی آبادی ذاکرین سے ہے غافلین سے نہیں،یا جیسے زندہ دوسروں کو نفع و نقصان پہنچاسکتا ہے مردہ نہیں،ایسے اﷲ کے ذاکر سے نفع و نقصان خلق حاصل کرتی ہے غافل سے نہیں یا جیسے مردے کو کوئی دوا یا غذا مفید نہیں ایسے ہی غافل کو کوئی عمل وغیرہ مفید نہیں اﷲ کا ذکر کرو پھر دوسرے اعمال،ذاکر مرکر بھی جیتا ہے غافل زندہ رہ کر بھی مردہ ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اس میں اشارۃً ارشاد ہوا کہ حی لایموت کا ذکر ذاکر کو حیات غیر فانیہ بخش دیتا ہے۔ اولیاءاﷲ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں چلے جاتے ہیں۔(مرقاۃ)
۲؎ مسلم شریف میں ہے کہ جو گھر اﷲ کے ذکر سے آباد ہو وہ زندہ ہے اور جو گھراس کے ذکر سے خالی ہو وہ مردہ ہے گھر سے مراد مؤمن کا دل ہے کہ وہ اﷲ کا گھر ہے مبارک ہے وہ جو اس گھر کو آباد رکھے منحوس ہے وہ جو اسے ویران کردے۔شعر
آباد وہ ہی دل ہے جس میں تمہاری یاد ہے جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے