| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ کے راستہ میں جارہے تھے کہ ایک پہاڑ پرگزرے جیسے جمدان کہا جاتا ہے ۱؎ تو صحابہ سے فرمایا چلو یہ جمدان ہے۲؎ سبقت لے گئے جدا رہنے والے ۳؎ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ الگ رہنے والے کون لوگ ہیں ۴؎ فرمایا اﷲ کی بہت یاد کرنے والے مردوعورت ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ پہاڑ مدینہ منورہ کے قریب ہے مکہ معظمہ کے راستے پر یہاں سے مدینہ منورہ پیدل ایک رات کے فاصلے پر ہے،طبرانی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا کہ ایک دوسرے کو نام بنام پکارکر پوچھتے ہیں کہ کیا تجھ پر کوئی اﷲ کا ذاکر گزرا،اگر کوئی پہاڑ کہتا ہے کہ ہاں مجھ پر گزرا تو سب کہتے ہیں مبارک ہو عوارف المعارف میں حضرت انس سے روایت ہے کہ روزانہ صبح و شام زمین کے بعض حصے بعض سے پوچھتے ہیں کہ کیا تجھ پر کوئی بندہ ایسا گزرا یا بیٹھا جو اﷲ کا ذکر کررہا ہو،اگر کوئی طبقہ کہتا ہے کہ ہاں مجھ پر گزرا ہے تو دوسرے طبقے کہتے ہیں تو ہم سب سے افضل ہے۔مرقات ۲؎ یعنی اے جماعت صحابہ یہ جمدان پہاڑ ہے یہاں اﷲ کا ذکر کرتے چلو تاکہ کل قیامت میں تمہارا گواہ ہو۔ ۳؎ مفردون تفرید سے ہے،بمعنی الگ کرنا،جدا رکھنا،یعنی جنہوں نے اپنے کو دنیاوی الجھنوں،اغیار کی مجلس سے الگ رکھا یا جنہوں نے تمام ذکروں سے اﷲ کے ذکر کو چھانٹ لیا۔جس میں وہ ہر وقت لگے رہتے ہیں۔ ۴؎ یہ ما سوال احوال کے لیے ہے نہ کہ سوال ذات کے لیے جیسے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تھا وما رب العلمین یعنی اﷲ تعالٰی کے صفات کیا ہیں اسی لیے یہاں من نہ بولا ما اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب بھی وہ عنایت فرمایا جو سوال کے مطابق ہے۔ ۵؎ چونکہ اﷲ کے ذاکر مرد زیادہ ہیں عورتیں کم،اس لیے مردوں کا ذکر پہلے ہوا عورتوں کا بعد میں۔ مرقات نے فرمایا کہ اللہ کا بہت ذکر کرنے والا وہ ہے جو کسی حال میں رب کو نہ بھولے خلوص سے اس کی عبادت کرے خلقت سے مستغنی رہے فکر و شکر میں حریص ہو جو خدا سے غافل کرے اس سے دور رہے اﷲ کے ذکر میں ایسی لذات پائے جو کسی اور چیز میں نہ پائے ر ب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡہِ تَبْتِیۡلًا"یعنی تمام غیر اﷲ سے کٹ کر رب کے ہوجاؤ۔