Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
488 - 5479
۱؎ دعوات دعوت کی جمع ہے،بمعنی دعا چھوٹے کا اپنے بڑے سے اظہار عجز کے ساتھ مانگنا دعا کہلاتا ہے چونکہ دعائیں صد ہا قسم کی ہیں اس لیے دعوات جمع بولا۔دعا مانگنا بھی ایک عبادت ہے بلکہ عبادات کا مغز ہے حدیث، بعض علماء دعا کو افضل کہتے ہیں،بعض رضاء بالقضاء کو مگر بہتر یہ ہے کہ زبان سے دعا مانگے اور دل میں رضاء رکھے کہ اگر دعا قبول نہ ہو تو ملول نہ ہو،اس صورت میں دعاء رضا دونوں پر عمل ہوگا،بعض حضرات فرماتے ہیں کہ عمومی حالات میں دعا مانگنا بہتر ہے کہ اس میں بندگی کا اظہار ہے،اسی لیے تمام انبیاء خصوصًا حضور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم نے دعائیں مانگی ہیں مگر بوقت امتحان رضا بالقضاء افضل ہے اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نار نمرود میں جاتے وقت دعا نہ مانگی بلکہ حضرت جبریل کے عرض کرنے پر فرمایا "کفانی عن سوالی علمہ بحالی" لہذا دونوں قسم کے واقعات آپس میں متعارض نہیں(از لمعات مع زیادۃ)دعا و ترک دعا کی اور بھی توجہیں کی گئیں ہیں مگر یہ توجیہ بہت بہتر ہے احوال مختلف ہیں،جیسے حالت ویسا عمل۔
حدیث نمبر 488
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو مجھ سے رکھے ۱؎ جب بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۲؎  اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلے ہی یاد کرتا ہوں اور اگر مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اسے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں عبد سے مراد بندہ مؤمن ہے اور ظنّ بمعنی یقین بھی آتاہے جیسے"یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ"اور بمعنی گمان نیک بھی جیسے"ظَنَّ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمْ خَیۡرًا"اور بمعنی بدگمانی بھی جیسے"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"یہاں دونوں معنے درست ہیں یعنی بندہ میرے متعلق جیسا یقین رکھے گا میں ویسا ہی معاملہ اس سے کروں گا یا بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرے گا میں ویسا ہی کروں گا مطلب یہ ہے کہ اگر بندہ قبولیت کی امید یا یقین پر دعا و عبادت کرے گا تو میں اس کی دعا و عبادت ضرور قبول کروں گا اور اگر ردکا یقین یا گمان کرے گا تو رد ہی کروں گا۔مقصد یہ ہے کہ اعمال بھی کرو اور قبول کی امید بھی رکھو عمل نہ کرکے بخشش کی امید رکھنا ظن نہیں بلکہ نفس کا دھوکا وغرور ہے ظن و غرور میں فرق چاہیئے جو بو کر گندم کاٹنے کی امید، ٹھنڈا لوہا کاٹنا بے کار ہے۔مولانا فرماتے ہیں۔شعر 

گندم از گندم بروید جو ز جو			از مکافات عمل غافل مشو

بعض لوگ امید دھوکے میں فرق نہیں کرتے وہ اس حدیث سے دھوکا کھاتے ہیں،حدیث واضح ہے۔

۲؎ رحمت و کرم،توفیق و مہربانی خیال رہے کہ بندہ رب سے ذکر اﷲ کرتے وقت بہت قریب ہوتا ہے،جو ہر وقت ذکر کرے وہ ہر وقت رب سے قریب ہے۔

۳؎ بہتر مجمع سے مراد ارواح انبیاء و اولیاء ہیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اور ہوسکتا ہے اس مجمع سے مراد مقرب فرشتوں کا مجمع ہو چونکہ بعض لحاظ سے فرشتے انسان سے افضل ہیں کہ ہم انسان نیک و بد ہر طرح کے کام کرلیتے ہیں،فرشتے صرف نیک کام ہی کرتے ہیں اسی لیے انہیں خیرًا منھم کہا گیا، لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ انسان فرشتے سے افضل ہے پھر یہاں فرشتوں کو انسان سے افضل کیوں فرمایا گیا۔

مسئلہ: ماہیت انسان ماہیت فرشتہ سے افضل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ"اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے رہے افراد اس میں تفصیل یہ ہے کہ خاص انسان جیسے انبیاء و اولیاء خاص و عام تمام فرشتوں سے افضل ہیں مگر عام مسلمان سے خاص فرشتے افضل،رہے کفار وہ تو گدھے کتے سے بھی بدتر ہیں،ر ب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر افضل ہے کہ آہستہ ذکر کرنے والوں کا ذکر  وہاں بھی خفیہ ہی ہوتا ہے اور مجمع لگاکر اونچا ذکر کرنے والوں کا وہاں بھی علانیہ ذکر ہی ہوتا ہے جیسے فرشتے و انبیاء و اولیاء سنتے ہیں ذکر بالجہر والوں کی یہ حدیث قوی دلیل ہے۔
Flag Counter