۱؎ ذکرکے چند معنے ہیں:یاد کرنا،یاد رکھنا،اس کا چرچا کرنا،خیرخواہی عزت و شرف وغیرہ۔ قرآن کریم میں ذکر ان تمام معنوں میں وارد ہوا یہاں ذکر کے پہلے تین معنے ہوسکتے ہیں:یعنی اﷲ کو یادکرنا اسے یاد رکھنا اس کا چرچا کرنا اس کا نام جپنا۔ ذکر اﷲ تین قسم کا ہے:ذکر لسانی،ذکر جنانی، ذکر ارکانی،ہر عضو کا ذکر علیحدہ ہے،آنکھ کا ذکر ہے خوفِ خدا میں ر ونا، کان کا ذکر ہے اس کا نام سننا وغیرہ ذکر اﷲ بالواسطہ بھی ہوتا ہے اور بلاواسطہ بھی،اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات کا تذکرہ یا انہیں سوچنا بلاواسطہ ذکر اﷲ ہے،اس کے محبوبوں کا محبت سے چرچا کرنا اس کے دشمنوں کا برائی سے ذکر کرنا سب بالواسطہ اﷲ کا ذکر ہیں۔دیکھو سارا قرآن ذکر اﷲ ہے مگر اس میں کہیں تو خدا کی ذات و صفات مذکور ہیں،کہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصاف و محامد کہیں کفا رکے تذکرے۔ ذکر اﷲ بہترین عبادت ہے اسی لیے رب تعالٰی نے اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کاتاکیدی حکم دیا رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یاد کر و میں تمہیں یاد کروں گا مولانا فرماتے ہیں۔شعر گر تو خواہی زیستن با آبرو ذکر اُوکُن ذکر اُوکُن ذکر او ہر گدا را ذکر او سلطان کند ذکر اوبس زیور ایماں بود ہر کہ دیوانہ بود در ذکر حق زیر پائش عرش و کرسی نہ طبق حضرات نقشبندیہ کے ہاں ذکر خفی افضل ہے دوسرے سلسلوں میں ذکر بالجہر بہتر،فریقین کے دلائل ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ کیجئے تقرب الی اﷲ سے مراد مکانی قرب نہیں کہ رب تعالٰی مکان و جگہ سے پاک ہے بلکہ قبولیت کا قرب مراد ہے مردود دور رہے محبوب درحضور۔
حدیث نمبر 485
روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرماتے رسول اﷲ نے ایسی کوئی جماعت نہیں جو اﷲ کے ذکر کے لیے بیٹھے ۱؎ مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے ۲؎ ان پر سکینہ اترتا ہے ۳؎ اور اپنے پاس والے فرشتوں میں اﷲ ان کا ذکر کرتا ہے ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ بیٹھنے سے مراد کھڑے ہونے کے مقابل ہے،لہذا اس جملہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ذکر اﷲ بیٹھ کر کرنا افضل ہے کہ اس میں سکون زیادہ ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ ذکر اﷲ جماعت میں کرنا افضل ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ممکن ہے کہ بیٹھنے سے مراد ہمیشہ ذکر اﷲ کرنا ہو نیکی ہمیشہ کرنا افضل ہے۔ ۲؎ یہاں فرشتوں سے مر اد وہ فرشتے ہیں جو زمین کا چکر لگاتے رہتے ہیں ذکر الٰہی کے طبقے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور رحمت سے مراد خاص رحمت الٰہی ہے جو ذاکرین کے لیے مخصوص ہے لہذا اس جملہ پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو انسان کو ہر وقت ہی گھیرے رہتے ہیں کیونکہ ہر وقت ساتھ رہنے والے فرشتے حافظین ہیں۔ ۳؎ سکینہ کی شرح "باب فضائل القرآن"میں گزرچکی کہ یا تو اس سے مراد خاص ملائکہ ہیں یا دل کا نور یا دلی چین و سکون ہے اﷲ کے ذکر سے دل کو چین نصیب ہوتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ"اور فرماتاہے:"ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔ ۴؎ یعنی اﷲ تعالٰی کے ملائکہ مقربین ہیں جو ہمیشہ اس کے پاس رہتے ہیں انتظام عالم کے لیے نہیں آتے اور ارواح انبیاءعلیہم السلام و اولیاء عظام میں لوگوں کا ذکر فخر سے عزت وعظمت سے کرتے ہیں۔(مرقاۃ)یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"پھرجس طرح بندہ رب کو یاد کرتا ہے اسی طرح رب بندے کو مثلًا بندہ کہتاہے کہ مولیٰ میں گنہگار ہوں رب فرماتاہے بندے مت گھبرا میں غفار ہوں وغیرہ۔