| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں پانچ دعائیں بہت قبول کی جاتی ہیں مظلوم کی دعا حتی کہ بدلہ لے لے ۱؎ حاجی کی دعا حتی کہ لوٹ آئے ۲؎ غازی کی دعا حتی کہ جنگ بند ہوجائے ۳؎ بیمار کی دعا حتی کہ تندرست ہوجائے مسلمان بھائی کی پس پشت دعا پھر فرمایا ان سب میں مسلمان بھائی کی دعا پس پشت زیادہ قبول ہوتی ہے ۴؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں روایت کیں۔
شرح
۱؎ زبان سے یا ہاتھ سے یا حاکم کے ہاں فریاد کرکے جس سے اس کی مظلومیت ختم ہوجائے۔ ۲؎ خواہ حج اکبر یعنی حج کرے یا حج اصغر یعنی عمرہ کرے دونوں کی دعائیں اپنے وطن تک آنے تک قبول ہیں اس لیے حجاج سے دعائیں کراتے ہیں۔ ۳؎ یا یہ غازی اپنے گھر لوٹ آئے مشکوٰۃ شریف کے بعض نسخوں میں حتی یقعد ہے یعنی مجاہد جہاد سے بیٹھ ر ہے یعنی یا تو فراغت جہاد کی وجہ سے یا درمیان جہاد اپنے گھر آجائے۔ ۴؎ کیونکہ اس دعا میں خلوص بہت ہوتا ہے،نیز یہ شخص دوسروں کے لیے مفید ہے۔