Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
483 - 5479
حدیث نمبر 483
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کوئی ایسی دعا مانگے جس میں نہ گناہ ہو نہ قطع رحمی ۱؎ مگر اﷲ تعالٰی اسے تین میں سے ایک ضرور دیتا ہے یا تو اس کی دعا یہاں ہی قبول کرلیتا ہے ۲؎ یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کردیتا ہے ۳؎ یا اس جیسی مصیبت ٹال دیتا ہے ۴؎ صحابہ نے عرض کیا تب تو ہم خوب زیادہ دعائیں کریں گے فرمایا رب کی عطا بہت زیادہ ہے۔۵؎(احمد)
شرح
۱؎ یعنی اس دعا میں نہ تو لازم گناہ ہو نہ متعدی،مثلًا کہے کہ فلاں اجنبیہ سے وصال نصیب کر یا مجھے دولت دے تاکہ میں اپنے عزیزوں کو اپنا غلام بنا کر رکھوں کہ ایسی دعائیں ممنوع ہیں۔

۲؎ کہ اس کی منہ مانگی مراد جلد یا کچھ دیر سے دے دیتا ہے۔

 ۳؎ کہ دنیا میں تو اس کی مراد پوری نہیں کرتا مگر آخرت میں اس کے عوض اس کے گناہ معاف فرمادے گا اس کے درجے بلند کردے گا۔

 ۴؎ معلوم ہوا کہ دعا سے رد بلا ہوتا ہے اس لیے مراد پوری نہ ہونے پر ملول نہ ہونا چاہیئے۔

 ۵؎ کہ اگر سارا جہاں ہمیشہ دعائیں مانگے تو رب تعالٰی کے ہاں سے محروم نہ ہوں گے مگر۔شعر

جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو		در کریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا
Flag Counter