۱؎ یعنی اے لوگو ں تمہارا ہر دعا میں سر سے اونچے ہاتھ اٹھانا اور دعاؤں میں فرق نہ کرنا کہ کس دعا میں اتنے اونچے ہاتھ اٹھائے جائیں یہ خلاف سنت ہے،اسے چھوڑ دینا چاہیئے،خیال رہے کہ بدعت کے ایک معنے تو ہیں نیا کام یعنی جو کام حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ایجاد ہو،اس بدعت کی دو قسمیں ہیں،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ،جس کی پوری بحث باب الاعتصام میں گزرچکی،جمع قرآن کے وقت بعض صحابہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے عرض کیا تھا کہ آپ وہ کام کیوں کر رہے ہیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا یعنی یہ بدعت ہے تو حضرت صدیق نے فر مایا کہ واﷲ ھو خیر رب کی قسم یہ اچھا کام ہے۔یعنی بدعت حسنہ ہے،دوسرے خلاف سنت کام یہ بدعت ہمیشہ سیئہ اور بری ہی ہوگی،یہاں دوسرے معنے مراد ہیں کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تو عمومًا سینہ تک ہاتھ اٹھائے اور تم عمومًا سر سے اونچے اٹھاتے ہو تو اس سنت کو چھوڑتے ہو،اس سے باز آجاؤ۔
۲؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس سے عام دعائیں مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عمومی دعاؤں میں کبھی ہاتھ کم اٹھاتے تھے کبھی زیادہ مگر زیادتی سینہ سے اوپر نہ ہوئی،لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کبھی سر سے اونچے ہاتھ اٹھانے کا ثبوت ہے۔