Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
480 - 5479
حدیث نمبر 480
روایت ہے حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی ہے کہ آپ نے فرمایا طریقہ دعایہ ہے کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے مقابل یا اُن تک اٹھاؤ ۱؎ اور طریقہ استغفار یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو ۲؎ اور عاجزی زاری طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ خوب پھیلادو ۳؎ اور ایک روایت میں فرمایا کہ زاری یوں ہے اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہاتھوں کی پیٹھ چہرہ انورکے سامنے کی ۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی عام دعاؤں میں ہاتھ سینے تک اٹھانا سنت ہے کہ عادۃً بھکاری مانگتے وقت داتا کے سامنے یہاں تک ہی ہاتھ اٹھاتے اور پھیلاتے ہیں،لمعات

 ۲؎ یعنی استغفار پڑھتے وقت اپنی کلمہ کی انگلی اپنے نفس کی طرف کرکے عرض کرے کہ یا اﷲ یہ نفس امارہ مجرم ہے اور یہ بندہ گنہگار حاضر ہے،بخش دے۔

۲؎  ابتھال کے معنے ہیں اظہار عجز اور انتہائی خشوع،اسی سے ہے مباہلہ،یہاں اس سے مراد دفع بلا کی دعا ہے،جیسے استسقاء میں قحط کے دفع ہونے کی دعا مانگی جاتی ہے ایسی دعاؤں میں ہاتھ سر سے اوپر اٹھانے چائیں۔

۴؎ یعنی ہاتھ پورے اٹھا دیئے جائیں حتی کہ ہاتھوں کی پیٹھ چہرے کی طر ف ہوجائے۔
Flag Counter