Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
473 - 5479
حدیث نمبر 473
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی ۱؎ روزہ دار کی جب افطار کررہا ہو ۲؎ انصاف والے حاکم کی۳؎ اور مظلوم کی دعا کو تو اﷲ تعالٰی بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے۴؎ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور رب تعالٰی فرماتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد سہی ۵؎(ترمذی)
شرح
۱؎ شخصوں سے مراد مسلمان ہیں مرد ہوں یا عورت کفار اس میں داخل نہیں،دعا رد نہ ہونے کا وہ مطلب ہے جو پہلے عرض کیا جاچکا ہے،عطائے مدعی،رد بلا،رفع درجات۔

۲؎ کیونکہ یہ عبادت سے فراغت کا وقت ہے بعد عبادت دعائیں قبول ہوتی ہیں اس لیے نماز،حج،زکوۃ،سے فراغت پر دعائیں کرنا چاہیئے۔ معلوم ہوا کہ بعد نماز جنازہ بھی دعا کی جائے کہ وہ بھی رب کی عبادت ہے اور عبادت کے بعد دعا قبول ہے۔

۳؎ مرقات نے فرمایا کہ مسلمان حاکم کا ایک گھڑی عدل و انصاف کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے کہ اس عدل سے خلق خدا کا نظام قائم ہے۔

۴؎ مرقات نے فرمایا کہ مظلوم جانور بلکہ مظلوم کافر و فاسق کی بھی دعا قبول ہوتی ہے اگرچہ مسلمان مظلوم کی دعا زیادہ قبول ہے،کیونکہ مظلوم مضطرو بے قرار ہوتا ہے اور بے قرار کی دعا عرش پر قرار کرتی ہے رب فرماتاہے:"اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ"دعا کو بادلوں پر اٹھانے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جانے کا مطلب بہت جلد سننا اور اس کی دعا کی عزت افزائی اور اہمیت کا اظہا ر فرمانا۔

۵؎  حین عربی میں مطلقًا وقت کو کہتے ہیں مگر اکثر کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ چالیس سال پر بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں حلیم ہوں،لہذا ظالم کو جلد نہیں پکڑتا۔اسے توبہ اور مظلوم سے معافی مانگنے کا وقت دیتا ہوں،اگر وہ اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھائے تو پکڑتا ہوں۔
Flag Counter