Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
474 - 5479
حدیث نمبر 474
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین دعائیں بلا شبہ مقبول ہیں ۱؎ باپ کی دعا ۲؎ مسافر کی دعا ۳؎ اور مظلوم کی دعا(ترمذی ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ خیال رہے کہ پہلی حدیث میں تین دعا کرنے والوں کا ذکر تھا۔اور یہاں تین دعاؤں کا تذکرہ ہے،یعنی یہ تین دعائیں بذات خود قابل قبول ہیں اور اپنے فاعلوں کی برکت سے بھی لائق قبول،اسی لیے وہاں عدل اور روزے کا ذکر فرمایا جس میں فاعل بہ تکلف مشقت اٹھاتا ہے۔یہاں مسافر اور باپ کا ذکر ہے جس میں تکلف و مشقت نہیں۔(مرقات)

۲؎ اولاد کے حق میں باپ کی دعا قبول ہے اور بددعا بھی مگر چونکہ باپ اکثر دعائیں ہی دیتا ہے اس لیے دعاء کا ذکر فرمایا،والد سے مراد ماں باپ دونوں ہیں دادا بھی اس میں داخل ہے کہ بالواسطہ وہ بھی والد ہے ماں کی دعا بہت زیادہ قبول ہوتی ہے۔

۳؎  یوں تو مسافر کی بحالت سفر تمام دعائیں ہی قبول ہیں مگر اپنے محسن کے لیے دعا اور اپنے ستانے والے پر بددعا بہت قبول ہے۔(مرقات)اسی طرح مظلوم کی بددعا قبول مگر ستانے والے کے لیے بددعا اور امداد کرنے والے یا بچانے والے کے لیے دعاء بہت قبول ہے۔
Flag Counter