۱؎ اس میں ہاتھ پھیلانے کی حکمت کا بیان ہے ان شاءاﷲ پھیلے ہوئے ہاتھ رب کی بارگاہ سے خالی نہیں لوٹیں گے ۔خیال رہے کہ رب تعالٰی حیاء شرم وغیرہ کے ظاہری معنے سے پاک ہے اس کے لیے ان چیزوں کا نتیجہ مراد ہوتا ہے یعنی اﷲ تعالٰی ایسا کرتا نہیں کہ بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو خالی پھیرے اس کے معنے ہم عرض کرچکے ہیں کہ اﷲ تعالٰی مانگنے والے کو ضرور دیتا ہے خواہ اس طرح کہ اس کی مراد پوری کردے یا اس طرح کہ اس کی کوئی آفت ٹال دے یا اس طرح کہ درجات بلند کردے،لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت دفعہ ہاتھ پھیلا کر دعائیں کی جاتی ہیں اور مراد نہیں ملتی۔