۱؎ کیونکہ پھیلے ہوئے ہاتھوں پر اﷲ کی رحمت اترتی ہے ان ہاتھوں کے منہ پر پھیر لینے سے رحمت منہ پر پہنچ جاتی ہے،یہ عملی سنت بھی ہے اتباع سنت میں برکت ہےمرقا ۃ ۔ہاں بعض علماء نے فرمایا کہ کھانے کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے اگر مجمع میں کھانا کھایا جائے تو اس دعا میں ہاتھ نہ اٹھائے تاکہ ان لوگوں کو شرمندگی نہ ہو جو ابھی تک فارغ نہ ہوئے۔حصن حصین شریف میں ہے کہ ہاتھ اٹھانا آداب دعا سے ہے جن احادیث میں ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم سوائے استسقاء کے اور دعاؤں میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے وہاں زیادہ اونچے ہاتھ اٹھانا مراد ہے یعنی نماز استسقاء میں ہاتھ سر مبارک سے اونچے اٹھاتے تھے باقی دعاؤں میں سینے کے مقابل لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔