Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
467 - 5479
حدیث نمبر 467
اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یوں ہے کہ اﷲ سے دعا کرو ہتھیلیاں پھیلا کر نہ ہاتھ کی پشت سے پھر جب فارغ ہوجاؤ تو منہ پر ہاتھ پھیر لو۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ کیونکہ پھیلے ہوئے ہاتھوں پر اﷲ کی رحمت اترتی ہے ان ہاتھوں کے منہ پر پھیر لینے سے رحمت منہ پر پہنچ جاتی ہے،یہ عملی سنت بھی ہے اتباع سنت میں برکت ہےمرقا ۃ ۔ہاں بعض علماء نے فرمایا کہ کھانے کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے اگر مجمع میں کھانا کھایا جائے تو اس دعا میں ہاتھ نہ اٹھائے تاکہ ان لوگوں کو شرمندگی نہ ہو جو ابھی تک فارغ نہ ہوئے۔حصن حصین شریف میں ہے کہ ہاتھ اٹھانا آداب دعا سے ہے جن احادیث میں ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم سوائے استسقاء کے اور دعاؤں میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے وہاں زیادہ اونچے ہاتھ اٹھانا مراد ہے یعنی نماز استسقاء میں ہاتھ سر مبارک سے اونچے اٹھاتے تھے باقی دعاؤں میں سینے کے مقابل لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
Flag Counter