۱؎ یعنی دعا کے وقت ہتھیلیاں آسمان کی طرف پھیلاؤ اور ہاتھوں کی پیٹھ زمین کی طرف رکھو کیونکہ مانگنے والا داتا کے سامنے لینے کے لیے ہتھیلی ہی پھیلاتاہے،نیز اس میں اظہار عجز زیادہ ہے ہاں جن دعاؤں میں کچھ مانگا جائے کسی آفت سے بچا جائے وہاں سنت یہ ہے کہ پہلے تو ہتھیلیاں پھیلاؤ اور پھر آسمان کی طرف ہاتھوں کی پیٹھیں کردو،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نماز استسقاء کے بعد ایسے ہی دعا مانگتے تھے اس ہاتھ پلٹنے میں اشارۃً یہ عرض کرنا ہے کہ مولا دنیا کا حال بدل دے۔خشکی ہے تری کردے،قحط ہے فراخی کردے،گرانی ہے ارزانی کردے۔