۱؎ یعنی دعا کرتے وقت یہ یقین کرلو کہ رب تعالٰی اپنے کرم سے میر ی یہ دعا ضرور قبول کرے گا اس میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ دعا کے وقت تمام شرائط قبول اور آداب دعا پورے کرو جس سے تمہارے دل کو قبولیت کا یقین خود بخود ہو جائے پھر ساتھ ہی اس کے کرم سے امید رکھو اﷲ تعالٰی آس والوں کو ناامید نہیں فرماتا اس کا نام ہے رجاء السائلین ۔(از مرقات و لمعات)
۲؎ قبولیت دعا کی بہت سی شرطیں ہیں،جن میں سے بڑی اہم شرط دل لگنا ہے اسی لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دعا مانگنے کے وقت دل اور طرف ہو منہ اور طرف ہاتھ رب تعالٰی کی بارگاہ میں پھیلے ہوں،خیال بازار وغیرہ میں ہو تو دعا قبول نہیں ہوتی۔قبولیت دعا اس شرط سے ہے کہ ہاتھ،زبان،دل دھیان سب کا مرکز ایک ہی یعنی بارگاہ الہٰی۔