| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نےجوچاہےکہ مصیبتوں کے وقت اﷲ اس کی دعا قبول کرے تو وہ آرام کے زمانہ میں دعائیں زیادہ مانگا کرے ۱؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ صرف مصیبت میں دعا مانگنا اور راحت میں رب سے غافل ہوجانا خود غرضی ہے اور ہر وقت دعا مانگنا عبدیت ہے رب کو خود غرضی ناپسند ہے عبدیت پسند خود فرماتاہے:"وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنۡسٰنِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ"۔ایسے خود غرض کا حشر یہ ہوتا ہے کہ رب تعالٰی فرماتاہے اس پر مصیبت رہنے دو تاکہ اسی بہانے میرے دروازے پر حاضر رہے۔