۱؎ یعنی جسے ہر وقت ہر حال میں دعائیں مانگنے کی توفیق ملے تو یہ اس کی علامت ہے کہ اس کے لیے رب تعالٰی نے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں،اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دعا کی طرف دل کا راغب ہونا پھر دعا کے لیے اچھے الفاظ مل جانا رب تعالٰی ہی کے کرم سے ہے جب وہ کچھ دینا چاہتا ہے تو ہمیں مانگنے کی توفیق بخشتا ہے۔شعر
مری طلب بھی تمہارےکرم کاصدقہ ہے قدم یہ اٹھتےنہیں ہیں اٹھائےجاتےہیں
۲؎ لمعات نے فرمایا کہ عافیت کے معنے سلامتی ہیں،یہاں کامل سلامتی مراد ہے،یعنی زندگی موت،قبر حشر کی تمام ظاہری باطنی چھوٹی بڑی آفتوں سے سلامتی و حفاظت۔ ظاہر بات ہے کہ یہ دعاء جامع الدعاء ہے، مرقات نے فرمایا کہ رب تعالٰی نے مصیبتیں پیدا ہی اس لیے کی ہیں تاکہ بندہ ان سے سلامتی کی دعائیں مانگے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ عافیت اسی میں ہے جس میں رب راضی ہے،لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا خیبر میں زہر کھالینا فاروق اعظم کا مصلائے مصطفے پر خنجر کھا کر شہید ہونا،عثمان غنی کا قرآن پڑھتے ہوئے ذبح ہوجانا،حسین علیہ السلام کا بے آب دانہ مثل پروانہ،شمع مصطفوی پر نثار ہوجانا،عافیت ہی تھا۔لہذا رب تعالٰی سے وہ عافیت مانگو جو اس کے علم میں ہمارے لیے عافیت ہے نہ وہ جو ہمارے علم میں ہمارے لیے عافیت ہو۔ حضرت عباس نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے کوئی بہترین دعا سکھائیے فرمایا چچا جان،اﷲ سے دین و دنیا کی عافیت مانگو۔