۱؎ یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے کہ"ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ"مجھ سے دعا کرو میں تمہاری قبول کروں گا اس حدیث نے بتایا کہ قبولیت دعا کی چند صورتیں ہیں:ایک منہ مانگی مراد مل جانا،دوسرے اس جیسی آفت ٹل جانا،مثلًا کسی کے ہاں سو روپیہ کی چوری ہونی تھی،اس نے اﷲ سے دعا مانگی کہ خدایا مجھے سو روپیہ دے اسے سو روپے تو نہ ملے مگر اتنی چوری ٹل گئی،بہرحال دعا رائیگاں نہ گئی لہذا مانگی مراد نہ ملنے پر دل تنگ نہ ہو بعض مرادیں نہ ملنا ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔
۲؎ یہ قبول دعا کی شرط ہے کہ انسان بری چیز کی دعا نہ مانگے کہ وہ قبول نہیں اور نہ اس دعا کی یہ تاثیریں ہیں۔خیال رہے کہ کبھی بندہ بری بات بھی مانگ لیتا ہے اور پالیتاہے مگر یہ اس کی دعا کی قبولیت نہیں بلکہ ہونا ایسا ہی تھا اتفاقًا اس نے مانگ بھی لیا،نیز اس دعا پر ثواب کوئی نہیں بلکہ گناہ ہے۔