۱؎ یعنی اس کا عدل نہ مانگو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے عدل وہ ہے جو کام کے عوض دیا جائے فضل وہ ہے جو بلا معاوضہ محض مہربانی سے دیا جائے۔اگر رب تعالٰی عدل فرمائے تو ہم گنہگار بڑی سزا کے مستحق ہیں فضل فرمائے اور بخش دے تو اس کی مہربانی ہے۔ مِنْ فرما کر یہ بتلایا کہ اس کا بعض فضل مانگو نہ کہ سارا کیونکہ اس کا فضل غیر متناہی ہے اور تمہاری جھولی متناہی،پیالی والا سارا سمندر سمیٹنے کی کوشش نہ کرے۔
۲؎ عجیب بارگاہ بے نیاز ہے دوسرے سخی مانگنے والوں سے گھبرا جاتے ہیں رب تعالٰی وہ کریم ہے کہ مانگنے والوں سے خوش ہوتا ہے۔ہر دل کے ساتھ اس کا نیا راز ہے اور اس کے دروازے پر ہر بھکاری کا نیا ناز وا نداز۔شعر
اے کہ باہر دل ترا رازے دگر ہر گدا را بردرت نازے دگر
۳؎ یعنی گرفتار بلاشکایتیں نہ کرتا پھرے بلکہ اس کی مہربانی کا انتظار رکھے،وہاں آس والے کی آس توڑی نہیں جاتی۔خیال رہے کہ کسی سے دوا یا دعا کی درخواست کرنا شکایت نہیں اور نہ یہ اس انتظار کے خلاف ہے۔