۱؎ یعنی دعا کے دو فائدے ہیں: ایک یہ کہ اس کی برکت سے آئی بلا ٹل جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ آنے والی بلا رک جاتی ہے،لہذا فقط بلا آنے پر ہی دعا نہ کرو بلکہ ہر وقت دعا مانگو شائد کوئی بلا آنے والی ہو کہ اس دعا سے رک جائے۔اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی بیان ہوا کہ یہ سب تقدیرمعلق کے متعلق ہے۔
۲؎ اس طرح کہ حال میں دعائیں مانگو،دعا کیلیے بلاء آنے کا انتطار نہ کرو کہ جب آفت آئے گی تو دعا مانگ لیں گے ۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ جیسے ڈھال سلاح یعنی ہتھیارکا وار روک لیتی ہے اور جیسے پانی لگی پیاس بجھادیتا ہے یعنی ڈھال اور پانی ان کے اسباب ہیں ایسے ہی دعا آئی ہوئی بلا کا وار روک لیتی ہے اور لگی آگ بجھادیتی ہے،اسباب بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہیں اور مسببات بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَلْیَاۡخُذُوۡا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ"جنگ میں اپنا بچاؤ اور ہتھیار لے کر جاؤ لہذا دنیا میں بھی انسان دعاؤں کا بچاؤ اور نیک اعمال کے ہتھیار لے کر رہے،ورنہ آفات کچل دیں گے۔