| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطرہ لازم فرمایا روزوں کو بے ہودگی اور فحش سے پاک کرنے اور مسکینوں کو کھانا دینے کے لیے ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی فطرہ واجب کرنے میں دو حکمتیں ہیں:ایک تو روزہ دار کے روزوں کی کوتاہیوں کی معافی اکثر روزے میں غصہ بڑھ جاتا ہے تو بلاوجہ لڑ پڑتا ہے،کبھی جھوٹ،غیبت وغیرہ بھی ہوجاتے ہیں،رب تعالٰی اس فطرے کے برکت سے وہ کوتاہیاں معاف کردے گا کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔دوسرے مساکین کی روزی کا انتظام۔بچوں پر اگرچہ روزے فرض نہیں مگر دوسری حکمت وہاں بھی موجود ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر بچوں پر فطرہ کیوں ہے وہ تو روزہ رکھتے نہیں۔