روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ نے رمضان کے آخر میں فرمایا کہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو یہ صدقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم فرمایا ہے ایک صاع کھجور یا جَو یا آدھا صاع گندم ۱؎ ہر آزاد یا غلام مردیا عورت چھوٹے یا بڑے پر ہے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عید کے دن سے پہلے میں فطرہ دے سکتے ہیں،دیکھو حضرت ابن عباس نے آخر رمضان میں ہی فطرہ نکالنے کا حکم دیا۔دوسرے یہ کہ گندم کا آدھا صاع فطرہ میں دیا جائے نہ کہ پورا لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے۔ ۲؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ مملوک غلام کا فطرہ مولیٰ دے گا غلام مسلمان ہو یا کافر،اسی طرح چھوٹے بچے کا فطرہ باپ پر ہے اگر بچے کے پاس اپنا مال نہ ہو ورنہ خود بچے کے مال سے دیا جائے گا۔