۱؎ یہ اعلان فتح مکہ کے بعد ہوا کیونکہ اس سے پہلے وہاں اسلامی احکام کے اعلان کی کوئی صورت ہی نہ تھی،چونکہ مدینہ کے مسلمانوں کو ہر وقت صحبت محبوب میسر تھی اس لیے انہیں اس اعلان کی ضرورت نہ تھی،مکہ معظمہ کے اکثر مسلمان نو مسلم بھی تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے دور بھی اس لیے یہ اعلان کرائے گئے۔
۲؎ ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے تو دو مد کا آدھا صاع ہوا یعنی گندم سے فطرہ آدھا صاع فی کس واجب ہے اور کل مسلم سے مراد ہر صاحبِ نصاب غنی مسلمان ہے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا کہ صدقہ غنی کے بغیر واجب نہیں ہوتا اور آزاد و غلام چھوٹے بڑے سے مراد بلاواسطہ اور بالواسطہ ہے یعنی بالغ آزاد غنی تو اپنا فطرہ خود دے اور غنی کے غلام و چھوٹے بچوں کا فطرہ وہ غنی دے لہذا یہ حدیث نہ تو دیگر احادیث کے خلاف ہے نہ احناف کے مخالف۔
۳؎ یہاں طعام کو گندم کے مقابل فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ اس سے سواء گندم دوسرے غلے مراد ہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کی گویا شرح ہے جہاں فرمایا گیا تھا کہ طعام کا ایک صاع واجب ہے۔خیال رہے کہ فطرہ میں اصل گندم و جَو،جوار ہیں،اگر ان کے سواءکسی اور غلہ یا دوسری چیز سے فطرہ دیا گیا تو ان مذکورہ دانوں کی قیمت کا لحاظ ہوگا لہذا چاول باجرہ آدھے صاع گیہوں کی قیمت کے دینے ہوں گے۔