۱؎ یعنی دعا کی برکت سے آتی بلا ٹل جاتی ہے دعائے درویشاں رد بلا،قضاء سے مراد تقدیر معلق ہے یا معلق مشابہ با لمبرم کہ ان دونوں میں تبدیلی ترمیمی ہوتی رہتی ہے تقدیر مبرم کسی طرح نہیں ٹلتی،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ"۔کہا جاتا ہے کہ بخار آگیا تھا دوا سے اتر گیا دوا نے تقدیر مبرم کو نہیں بدل دیا بلکہ اس کے اثر سے چڑھا ہوا بخار اتر گیا تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ اسے بخار آئے گا اگر فلاں دوا کرے تو اتر جائے گا اس کے اور بھی معنے کیے گئے ہیں مگر یہ توجیہ بہتر ہے۔
۲؎ یعنی لوگوں سے خصوصًا ماں باپ اور اہل قرابت سے اچھا سلوک کرنا عمر بڑھا دیتا ہے اس کی بھی وہ صورت ہے جو ابھی عرض کی گئی ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنۡقَصُ مِنْ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ"۔معلوم ہوا کہ عمر میں زیادتی کمی ہوتی ہے۔اور فرماتاہے:"یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ"۔معلوم ہوا کہ تقدیر میں محوو اثبات ہوتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ایک ہے اﷲ کا علم،ایک ہے اﷲ تعالٰی کے فرشتوں کو اعلام تحریر سے ہو یا بغیر تحریر،ا ن دونوں کا نام تقدیر ہی ہے مگر پہلی تقدیر میں تبدیلی قطعًا ناممکن ہے دوسری تقدیر میں تبدیلی ممکن بلکہ واقع ہے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد سوم میں ملاحظہ کیجئے۔حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر آدم علیہ السلام کی دعا سے ساٹھ سال سے سو سال ہوگئی۔