۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں طعام سے مراد گندم کے علاوہ دوسرا غلہ ہے جوار،باجرہ،مکئی وغیرہ کیونکہ گندم کا آدھا صاع فطرہ ہوتا ہے نہ کہ پورا صاع اور اگر گندم مراد ہو تو آدھا صاع فطرہ ہوگا اور آدھا صدقہ نفلی لہذا یہ حدیث نصف صاع گندم کی احادیث کے خلاف نہیں۔شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ اس زمانہ میں حجاز میں جوار کا زیادہ استعمال تھا۔
۲؎ یہ اَوْ اختیار دینے کے لیے ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ دینے والے کوا ختیار ہے کہ فطرہ ان میں سے کسی چیز سے دے لیکن اگر پیسے یا کپڑا یا صابن وغیرہ فطرہ میں دے تو سوا دو سیر گندم کی قیمت کا اعتبار کرے،اس قیمت کی یہ چیزیں دے۔