Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
445 - 5479
حدیث نمبر 445
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں مجھے ابوبکر صدیق نے جنگ یمامہ کے موقعہ پر بلایا ۱؎ تو حضرت عمر ابن خطاب آپ کے پاس تھے ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ جناب عمر میرے پاس آئے تو بولے کہ یمامہ کے دن قرآن کے قاری بہت شہید ہو گئے میں ڈرتا ہوں کہ اگر اور چند جنگوں میں قاری شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا ۲؎ لہذا میری رائے یہ ہے آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیں ۳؎ میں نے عمر سے کہا تم وہ کام کیسے کرسکتے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا ۴؎ فرماتے ہیں کہ تب حضرت عمر نے کہا رب کی قسم یہ کام اچھا ہے حضرت عمر بار بار یہ کہتے رہے حتی کہ اﷲ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کشادہ کردیا ۵؎ اور میں نے حضرت عمر کی رائے میں مصلحت دیکھی حضرت زید کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر نے فرمایا تم جوان ہو عقلمند ہو ہمیں تم پر بداعتمادی نہیں ۶؎ اور تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وحی لکھتے رہے ہو ۷؎ لہذا تم ہی قرآن تلاش کرو اور اسے جمع کردو ۸؎ اﷲ کی قسم اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے ہٹادینے کا حکم دیتے وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم مجھ پر بھاری پڑا ۹؎ فرماتے ہیں میں نے کہا آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا حضرت صدیق نے فرمایا خدا کی قسم یہ کام بہت ہی اچھا ہے ۱۰؎  پھر حضرت صدیق  بار بار مجھے یہ فرماتے رہے حتی کہ اﷲ نے میرا سینہ بھی اس کے لیے کھول دیا جس کے لیے حضرت صدیق و فاروق کا سینہ کھولا ۱۱؎ پھر میں نے قرآن کی تلاش شروع کی کہ اسے خرمے کی شاخوں،پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۱۲؎ حتی کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ حضرت ابو خزیمہ انصاری کے پاس پایا ان کے سواء کسی کے پاس نہ ملا ۱۳؎ یعنی لقد جاء کم رسول سے ختم سورۃ برات تک ۱۴؎ پھر یہ اوراق حضرت ابوبکر کے پاس رہے حتی کہ رب نے انہیں وفات دی دی پھر تاحین حیات حضرت عمر کے پاس پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس ۱۵؎(بخاری)۱۶؎
شرح
۱؎ یمامہ ایک سر سبز شہر ہے جو مدینہ منورہ سے سولہ منزل پر واقع ہے ،یمامہ عورت کے نام پر رکھا گیا،وہاں قبیلہ بنی حنیفہ کے ایک شخص مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا اس پر بہت لوگ ایمان لے آئے ان مرتدین سے حضرت ابوبکر صدیق نے جہاد کیا بڑے گھمسان کا رن پڑا بارہ سو مسلمان شہید ہوئے جن میں سات سو حافظ قرآن و قاری صحابہ بھی تھے قرآن کریم کی حفاظت خطرہ میں پڑ گئی حضرت خالد ابن ولید اسلامی سپہ سالار تھے،آخر حضرت وحشی نے مسلیمہ کو ہلاک کیا یہ کہہ کر کہ یہ حضرت حمزہ کے خون کا کفارہ ہے خولہ بنت جعفر حنیفہ اسی جنگ میں گرفتار آئیں، جو حضرت علی مرتضی کو دی گئیں جن سے محمد ابن حنیفہ پیدا ہوئے اس جنگ کی خبر قرآن کریم نے یوں"سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ"۔

 ۲؎ کیونکہ ابھی تک قرآن کریم نہ تو جمع ہوا ہے نہ کتابی شکل میں باقاعدہ لکھا گیا ہے صرف سینوں میں ہے اگر یہ سینے ہی ختم ہوگئے تو قرآن بھی ختم ہوجائے گا۔

۳؎ اے عمر فاروق اﷲ تمہیں ہم سب کی طرف سے جزاء خیر دے تم ہی نے قرآن جمع کرایا اور تم ہی نے حفاظت قرآن کا ذریعہ قائم کیا،یعنی باقاعدہ تراویح کی جماعت میں ختم قرآن ہونا،اگر تراویح نہ ہوتی تو حفظ قرآن کا رواج بھی ختم ہوچکا ہوتا تمہارے احسان سے مسلمان تا قیامت سبکدوش نہیں ہو سکتے،اﷲ تمہاری قبر انور نور سے بھر دے رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۴؎ یعنی جمع قرآن بدعت ہے اور ہر بدعت بری ہوتی ہے لہذا یہ کام بھی بر ا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ کام جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں نہ ہو وہ بدعت ہے اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے تراویح کی باقاعدہ جماعت کر کے فرمایا نعمت البدعۃ ھٰذہ  یہ بڑی اچھی بدعت ہے  یعنی سنت صحابہ شرعی بدعت ہے۔خیال رہے  کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے زمانہ حیات میں قرآنی آیات کی ترتیب تو دے دی تھی کہ ہر آیت کے نزول پر فرمادیتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں فلاں آیت کے بعد رکھو یہ ترتیب لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق تھی مگر قرآن جمع نہ فرمایا تھا کیونکہ جمع ممکن نہ تھا آخر حیات شریف تک تو مختلف سورتوں کی مختلف آیتیں آتی رہی ہیں جمع قرآن کی یہ سعادت تو حضرت ابوبکر و عمر و عثمان غنی کے نصیب میں تھی۔

 ۵؎ اور میں نے بھی یہ سمجھ لیا کہ ہربدعت بری نہیں ہوتی بلکہ بعض بدعتیں اچھی بھی ہوتی ہیں حتی کہ بدعت حسنہ مستحب کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے،اس وقت جمع قرآن بدعت تھا مگر فرض تھا،اس سے بدعت حسنہ کا قوی ثبوت ہوا۔

 ۶؎ مجھے یقین ہوگیا کہ اس وقت جمع قرآن نہ کرنا یہ اس کے ضائع ہونے کا سبب ہوگا ۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جمع قرآن بدعت تھا مگر خیر بدعت۔

 ۷؎ یعنی جمع قرآن میں قوت کی بھی ضرورت ہے اور علم و حفظ اور دیانتداری کی بھی تم میں خدا کے فضل سے یہ سارے اوصا ف جمع ہیں۔

۸؎ یعنی اکثر کتابت وحی تم نے کی ہے،مرقات نے فرمایا کہ کاتبین وحی چوبیس صحابہ تھے جس میں خلفائے راشدین بھی ہیں ہم نے اپنی کتاب،امیر معاویہ میں بحوالہ صواعق محرقہ وغیرہ لکھا ہے کہ کاتبین وحی تیرہ ہیں،یعنی زیادہ ترلکھنے والے خلفائے راشدین(۴)،عامر ابن فہیرہ(۵)،عبداﷲ ابن ارقم(۶)،ابی ابن کعب(۷)،ثابت ابن قیس(۸)،خالد ابن سعید ابن عاص(۹)،حنظلہ ابن ربیع سلمی(۱۰) ،زید ابن ثابت(۱۱)،معاویہ ابن  ابی سفیان(۱۲)،شرجیل ابن حسنہ(۱۳)۔

 ۹؎ یعنی یہ کام قریبًا سارے صحابہ کریں گے،مگر اس کے منتظم تم ہو گے،لہذا اس جملہ پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو قرآن کریم متواتر نہ رہا ایک زید ابن ثابت کی روایت سے شروع ہوا۔

 ۱۰؎ یا تو اس لیے کہ جمع قرآن کو میں نے بدعت جانا اور ناجائز سمجھا اس لیے کہ پہاڑ کا منتقل کرنا جسمانی مشقت سے ہے اور جمع قرآن میں جسمانی اور روحانی دونوں مشقتیں ہیں یا اس لیے کہ پہاڑ ٹال دینے میں کوئی زمہ داری نہیں اور جمع قرآن میں قیامت تک مسلمانوں کے ایمان و اعمال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے کہ اگر ایک آیت میں ذرا سی بھی غلطی ہوگئی تو کسی کے نہ ایمان کی خیر ہے نہ اعمال کی۔

 ۱۱؎ یعنی اگرچہ قرآن جمع کرنا بدعت ہے مگر اچھی بدعت ہے ۔خیال رہے کہ ایجادات صحابہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سنت فرمایا ہے علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین لغوی معنے سے یعنی طریقہ و مسلک،رب تعالٰی نے فرمایاہے:"سُنَّۃَ مَنۡ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا"۔اور میں بھی سمجھ گیا کہ ہر بدعت بری نہیں ہوتی بعض بدعتیں اچھی بھی ہوتی ہیں جمع قرآن مجید ہے تو بدعت مگر اچھی ہے۔

 ۱۲؎ خیال رہے کہ چار صحابہ کو قرآن کریم مکمل حفظ تھا،ابی ابن کعب،زید ابن ثابت،معاذ ابن جبل،ابوالدرداء رضی اللہ عنہم،مگر حضرت زید نے صرف اپنی یاد پر جمع نہ فرمایا بلکہ تمام صحابہ سے ہر آیت کی تائید حاصل کی چنانچہ مختلف آیتیں مختلف صحابہ سے مختلف طرح ملیں کسی کو صرف یاد تھیں، کسی کے پاس یاد کے علاوہ پتوں،پتھروں وغیرہ پر لکھی ہوئی بھی تھیں،حضرت زید بن ثابت نے ان تمام چیزوں کو جمع کیا،پھر اپنی یاد سے مقابلہ کیا پھر انہیں مختلف اوراق میں پرچوں کی شکل میں یکجا کرکے انہی دھاگہ سے باندھ کر ایک تھیلہ میں محفوظ کرلیا۔صدیق اکبر کے زمانہ میں جمع قرآن کی یہ نوعیت ہوئی کہ آیات قرآنیہ متفرق تھیں ایک دھاگہ اور ایک تھیلہ میں جمع ہوگئیں،حضرت عثمان غنی کے زمانہ میں یہ تمام پرزے اور ورق ایک کتابی شکل میں جمع کرکے ان کی مختلف نقلیں کرا کر ہر طرف بھیجی گئیں کتابی شکل میں قرآن کا آنا عہد عثمانی میں ہوا،اس لیے حضرت عثمان کو جامع قرآن کہا جاتا ہے۔خلاصہ یہ کہ جمع قرآن تین بار ہوا ایک بار تو عہد نبوی میں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے لوگوں نے اپنے ذہن میں ترتیب دے لیں،پھر عہد صدیقی میں کہ مختلف اوراق ایک دھاگہ ایک تھیلہ میں جمع ہوگئے پھر عہد عثمانی میں قرآن شریف کتابی شکل میں آگیا،لمعات و مرقات،اس تقریر سے تمام شبہات دفع ہوگئے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود جمع قرآن کیوں نہ کیا،یہ کہ جب جامع قرآن ابوبکر صدیق ہیں تو عثمان غنی کو جامع قرآن کیوں کہا جاتا ہے۔یہ کہ پھر تو قرآنی آیات متواتر نہ رہیں بعض مشکوک ہوگئیں جو محض اوراق یا پتوں یا پتھروں سے لی گئیں وغیرہ۔

 ۱۳؎ یعنی یہ آیت ابوخزیمہ انصاری کے سواء کسی کے پاس لکھی ہوئی محفوظ نہ تھی یاد مجھے بھی تھی اور دوسرے صحابہ کو بھی مگر میں نے صرف اپنی یاد پر آیات جمع نہ کیں لہذا اس سے لازم یہ نہیں کہ یہ آیت متواتر نہ تھی۔

۱۴؎ براءۃ سورۃ توبہ کا نام ہے کیونکہ اس کے اول میں ہے"بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللہِ " یعنی سورۂ توبہ کی آخری آیت"لَقَدْ جَآءَکُمْ"سے "رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیۡمِ"تک صرف ابوخزیمہ انصاری کے پاس لکھی ہوئی ملی،مرقات نے فرمایا کہ الفاظ قرآن دلیل قطعی سے ثابت ہیں اور طریقہ کتابت دلیل ظنی سے۔

۱۵؎ چونکہ صدیق اکبر کی حیات شریف میں ہی حضرت عمر خلیفہ ہوگئے تھے۔اس لیے اوراق آیات کا یہ تھیلہ عمر فاروق کو خود صدیق اکبر ہی نے عطا فرمادیا تھا اور حضرت فاروق کی زندگی میں خلیفہ مقرر نہ ہوا تھا بعد میں چناؤ ہونا تھا،اس لیے یہ اوراق جناب عمر کی صاحبزادی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حفصہ کے پاس امانۃ محفوظ رہے جو پھر حضرت عثمان نے ان سے منگالیے جس کا ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے ۔

۱۶؎ یہاں مرقات نے حدیث حسن نقل کی کہ حضرت علی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر احسان عظیم فرمانے والے ابوبکر صدیق ہیں اﷲ ان پر رحمتوں کی بارش کرے کہ مسلمانوں کو قرآن جمع کرکے دے گئے وہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے خفیہ قرآن جمع کیا وہ روافض کی گھڑی ہوئی ہے ورنہ وہ ضرور اس قرآن کی اشاعت کرتے قرآن تو اشاعت کے لیے آیا نہ کہ غار میں چھپانے کے لیے رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ"یعنی قرآن چھپانے والے پر اﷲ کی اور سب خلق کی لعنت ہے۔
روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دعا ہی عبادت ہے ۱؎ پھر یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارا رب فرماتا ہے مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۲؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ)
شرح
۱؎  الدعاء میں الف لام عہدی ہے یعنی اﷲ سے دعا کرنا بھی عبادت ہے کہ اس میں اپنی بندگی اور رب تعالٰی کی ربوبیت کا اقرار و اظہار ہے،یہ ہی عبادت ہے،لہذا اس پر بھی ثواب ملے گا،لہذا اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بندے سے کچھ مانگنا گویا اس کی عبادت ہے یہ شرک ہے،لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے مانگنا،حاکم سے حکیم سے مالداروں سے کچھ مانگنا نہ یہ اصطلاحی دعا ہے اور نہ کفر و شرک،بندے بندوں سے دارو و دعا مانگا ہی کرتے ہیں غرض یہ کہ دعاء شرعی اور ہے اور دعائے لغوی کچھ اور جیسے صلوۃ شرعی اورہے یعنی نماز دعا لغوی کچھ اورنزول رحمت،دعائے رحمت وغیرہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ" یہاں صلوۃ شرعی مراد ہے اور صلوا علیہ میں صلوۃ لغوی مراد یا یوں کہو کہ اﷲ کے بندوں سے دعا مانگنا رب تعالٰی کی عبادت ہے نہ کہ ان بندوں کی،جیسے کعبہ کی طرف سجدہ کرنا رب تعالٰی کی عبادت ہے نہ کہ کعبہ کی بہرحال یہ حدیث وہابیوں کی دلیل نہیں ہوسکتی۔

۲؎  یہ آیت شہادت کے طور پر پیش فرمائی کہ جیسے رب تعالٰی نے نماز روزے کا حکم دیا ہے ویسے ہی دعا کا حکم دیا ہے۔اور اس پر قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں،مدعی پورا کردینا کوئی آفت ٹال دینا،درجات بڑا دینا،وغیرہ اس کے بعد رب تعالٰی فرمارہاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ"۔دعا کے بعد عبادت کا ذکر فرمانے سے معلوم ہوا کہ دعا عبادت ہے۔ خیال رہے کہ دعا مانگنا اکثر مستحب ہے واجب نہیں لہذا آیت کی یہ وعید اس کے لیے ہے جو تکبر سے دعا نہ مانگےکہ یہ تو کفر ہے۔(لمعات)
Flag Counter