Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
444 - 5479
حدیث نمبر 444
روایت ہے حضرت علقمہ سے فرماتے ہیں ہم حمص میں تھے حضرت ابن مسعود نے سورۂ یوسف پڑھی تو ایک شخص بولا یہ اس طرح نہیں اتری حضرت عبداﷲ نے فرمایا اﷲ کی قسم میں نے یہ سورۃ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں پڑھی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ٹھیک پڑھی ۱؎ جب کہ وہ شخص باتیں کررہا تھا کہ اس سے شراب کی بو محسوس کی تو عبداﷲ نے فرمایا تو شراب پیتا ہے اور قرآن کو جھٹلاتا ہے پھر اسے حدلگائی ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی تو تو کہتا ہے کہ سورۂ یوسف اس طرح نازل ہوئی اور خود صاحب قرآن صلی اللہ علیہ و سلم نے میری یہ ہی سورۃ سنی اور تصدیق و تحسین فرمائی تھی یہ فخریہ نہ کہا تھا بلکہ نعمت الٰہی کے اظہار کے لیے فرمایا۔

۲؎ اسی کوڑے شراب پینے کی سزا اس سے چند مسئلے ثابت ہوئے: ایک یہ کہ شراب کی بو منہ سے پائی جائے تو اس سے شراب پینے کا ثبوت ہوجائے گا، مجرم اقرار کرے یا نہ کرے،گواہی قائم ہو یا نہ ہو،مگر شرط یہ ہے کہ بو یقینًا شراب ہی کی ہو کھٹے سیب یا بہی کی نہ ہو،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔دوسرے یہ کہ شراب کی بو پائے جانے یا شراب کی قے کرنے پربھی حد شرب یعنی شراب کی سزا دی جاسکتی ہے۔تیسرے یہ کہ نشہ والے کا ارتداد معتبر نہیں کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں ہوتا،دیکھو قرآن شریف کا یا اس کی متواتر قرأت یعنی طریقۂ ادا کا انکار کفر ہے،مگر حضرت ابن مسعود نے اسے مر تد قرار نہ دیا،بلکہ شرابی قرار دیا ورنہ آپ یا تو اسے قتل کراتے ورنہ تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم دیتے ایک بار حضرت حمزہ نے نشہ کی حالت میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم و دیگر صحابہ سے کہہ دیا تھا"ھل انتم الا عبید لابی"یہ گفتگو کفر تھی،مگر انہیں کافر نہ کہا گیا فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر میت سے بحالت نزع روح کفریہ بات سنی جائے تو اسے کافر نہ مانا جائے گا،اس کی نماز جنازہ و دفن کیا جائے گا کہ اس وقت ہوش ٹھکانے نہیں ہوتے بے ہوشی میں کہہ رہا ہے۔ بعض صوفیاء سے سکرکی حالت میں کلمۂ کفر ثابت ہیں جیسے انا الحق یا سبحانی ما اعظم شانی وہ معذور ہیں کہ مدہوش ہیں،نیند کا بھی یہ ہی حال ہے۔
Flag Counter