| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے کہ حضرت حذیفہ ابن یمان جناب عثمان کی خدمت میں آئے جب کہ آپ فتح ارمینیہ میں شام والوں اور فتح آذربیجان میں عراق والوں سے جہاد کر رہے تھے حضرت حذیفہ کو لوگوں کی قرأت قرآن کے اختلاف نے گھبرا دیا تھا ۱؎ چنانچہ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے عرض کیا اے امیرالمؤمنین اس امت کی اس سے پہلے مدد کیجئے جب کہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اﷲ میں اختلاف کر بیٹھیں ۲؎ تب جناب عثمان غنی نے بی بی حفصہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ اوراق بھیج دو تاکہ ہم انہیں صحیفوں میں نقل کرلیں۳؎ پھر تمہیں واپس کردیں گے ۴؎ حضرت حفصہ نے وہ صحیفے جناب عثمان کو بھیج دیئے آپ نے حضرت زید ابن ثابت عبداﷲ ابن زبیر سعید ابن عاص عبداﷲ ابن حارث ابن ہشام کو حکم دیا ۵؎ انہوں نے اسے مختلف صحیفوں میں نقل کیا ۶؎ اور حضرت عثمان نے قریشی جماعت سے فرمایا جو تین صاحب تھے ۷؎ کہ جب تم اور زید ابن ثابت قرآن کی کسی آیت میں اختلاف کرو ۸؎ تو اسے زبان قریش ہی میں لکھنا کیونکہ قرآن زبان قریش میں اترا ہے ۹؎ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا حتی کہ جب یہ صحیفے دیگر مصاحف میں نقل کرلیے تو حضرت عثمان نے یہ اوراق بی بی حفصہ کو واپس کردیئے اور ان نقل شدہ میں سے ہر طرف ایک نسخہ بھیج دیا ۱۰؎ اور ان کے سواء بقیہ اور نسخوں کو جلا دینے کا حکم دے دیا ۱۱؎ ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے خارجہ ابن زید ابن ثابت نے خبر دی۱۲؎ کہ انہوں نے حضرت زید ابن ثابت کو فرماتے سنا کہ میں نے سورۂ احزاب کی ایک آیت قرآن نقل کرتے وقت گم پائی جو میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو پڑھتے ہوئے سنا کرتا تھا ۱۳؎ ہم نے اسے بہت تلاش کیا تو اسے خزیمہ ابن ثابت انصاری کے پاس پایا۱۴؎ یعنی یہ آیت کہ مؤمنوں میں بعض وہ لوگ ہیں جنہوں نے اﷲ تعالٰی سے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا چنانچہ ہم نے اسے قرآن شریف میں اس سورت سے ملادیا۔(بخاری)۱۵؎
شرح
۱؎ بلاد الغرب میں آذر بیجان مشہور شہر ہے اور اسی شہر کے نام سے علاقہ کو بھی آذر بیجان کہا جاتا ہے اس علاقہ میں آرمینیہ مشہور شہر ہے عہد عثمانی میں یہ علاقہ فتح ہوا اس جہاد میں شام و عراق کے غازی جمع تھے، یہ حضرات قرآن کریم مختلف طرح پڑھتے تھے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میرا قرآن صحیح دوسرے کا غلط ہے یہ اختلاف یا تو مختلف قرأتوں کی بنا پر تھا جو زمانہ نبوی میں مروج ہوچکی تھیں یا اس لیے کہ بعض صحابہ کے پاس قرآنی آیتوں کے ساتھ کچھ تفسیری نوٹ تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے وہ اسے قرآن سمجھے بیٹھے تھے اور قرآن کی طرح ان کی بھی تلاوت کرلیتے تھے۔ ۲؎ یعنی اے امیر المؤمنین ابھی تو عہد صحابہ ہے اگر اس وقت سے قرآن میں اختلاف پیدا ہوگیا تو آگے چل کر سینکڑوں قسم کے قرآن جمع ہوجائیں گے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہوگا ہر فرقہ کہے گا کہ میرا قرآن درست ہے دوسرے کا غلط جیسا کہ آج تو ریت و انجیل کے نسخوں کا حال ہے۔ ۳؎ حضرت عثمان غنی نے پہلے پچاس ہزار مسلمانوں کو جمع فرما کر ان سے مشورہ کیا سب نے بالاتفاق جمع قرآن کی رائے دیدی پھر آپ نے حضرت ام المؤمنین حفصہ بنت عمر فاروق سے جمع شدہ تھیلا منگایا یہاں مصحف سے مراد وہ اوراق ہیں جو حضرت صدیق اکبر جمع فرما کر دھاگے سے باندھ کر یکجا کر گئے تھے اور مصاحف سے مراد قرآن کریم کے مکمل نسخے ہیں جو کتابی شکل میں ہوں لہذا حدیث واضح ہے۔ ۴؎ کیونکہ حضرت حفصہ کے پاس قرآن بصیغہ امانت تھا نہ کہ یہ اوراق،قرآن مجیدنقل کرکے اوراق انہیں بھیج دیئے گئے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرت حفصہ کو وہ اوراق واپس کیوں کئے گئے۔ ۵؎ یعنی قرآن کے جمع کے لیے یہ چار حضرات منتخب ہوئے جن میں سے حضرت زید ابن ثابت تو انصاری تھے باقی تین حضرات مہاجر قرشی تھے۔ ۶؎ چار یا سات نسخے قرآن کریم کے جمع کئے جن میں سے ایک نسخہ یہاں مدینہ پاک میں رکھا گیا باقی تمام اطراف میں بھیج دیئے گئے۔ ۷؎ جن کے نام ابھی ابھی ذکر کئے گئے عبداﷲ ابن زبیر، سعید ا بن عاص،عبداﷲ ابن حارث۔ ۸؎ اس طرح کہ تمہاری قرأۃ کچھ اور طرح ہو،اور حضرت زید ابن ثابت کی قرأۃ دوسری طرح اس اختلاف کی وجہ وہ ہے جو پہلے گزر چکی کہ زمانہ نبوی میں تلاوت قرآن مختلف قرأتوں سے ہوتی تھی ۔ ۹؎ یعنی نزول قرآن تو قریشی زبان میں ہوا پھر آسانی کے لیے دیگر لوگوں کو اپنی لغتوں میں تلاوت کی اجازت دی گئی تھی اس وقت کے لحاظ سے جیسے نزول تو ہوا"مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ"مگر اجازت دی گئی"مَلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"پڑھنے کی بھی یا نزول تو ہوا ننشزھا ز نقطے والی سے مگر اجازت دی گئی ننشرھا پڑھنے کی بھی راء مہملہ سے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے صرف جمع قرآن کا اہتمام فرمایا لغت قریش پر ہو یا دوسری لغت پر۔مگر حضرت عثمان نے جمع بھی کیا اور دوسری قرأتوں سے چھانٹ بھی دیا جمع صدیقی اور جمع عثمانی میں ایک فرق یہ بھی ہے،حضرت حفصہ سے اوراق قرآن منگانے کا منشاء یہ تھا کہ کوئی آیت رہ نہ جائے نہ یہ کہ بعینہ نقل کردی جائے لہذا اس واقعہ پر اعتراض نہیں۔ ۱۰؎ چنانچہ قرآن کریم کے سات نسخے نقل کئے گئے جن میں سے ایک مدینہ پاک میں رکھا گیا اور ایک کوفہ،ایک بصرہ ایک شام،ایک بحرین اور ایک مکہ معظمہ کو بھیجے۔ ۱۱؎ یحرق ح مہملہ سے ہے،بمعنی جلادینا،بعض نسخوں میں یخرق خ منقوطہ سے ہے بمعنی پھاڑ ڈالنا یعنی اس کے علاوہ قرآن کے دوسرے اوراق کے جلا ڈالنے کا حکم دیا یا پھاڑ دینے کا مگر یحرق حاء مہملہ سے زیادہ مشہور ہے۔ خیال رہے کہ بعض صحابہ کے پاس کچھ اوراق تھے جن میں وہ آیات بھی تھیں جو منسوخ التلاوت ہوچکی تھیں۔مگر انہیں نسخ کی خبر نہ ہوئی تھی اور بعض تفسیری نوٹ بھی تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آیت کے ساتھ بطور تفسیر ارشاد فرمائے تھے یہ حضرات ان سب کو قرآن ہی سمجھے ہوئے تھے جیسے حضرت ابی ابن کعب یا ابن مسعود کے مصاحف،اگر وہ اوراق باقی رہ جاتے تو مسلمانوں میں بڑا فتنہ پھیلتا،ہر فرقہ کہتا کہ یہ قرآن درست دوسرا غلط اس لیے باقی تمام نسخے جلوادیئے گئے بعض بے وقوف کہتے ہیں کہ فضائل علی و اہل بیت کی آیات جلادی گئیں اور اب یہ موجودہ قرآن ناقص ہے مگر یہ محض غلط ہے ورنہ حضرت علی مرتضیٰ اس وقت خاموش نہ بیٹھتے قرآن کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کردیتے کم از کم اپنے دور خلافت میں اس اصلی قرآن کو جاری کرتے اور اس قرآن سے نماز وغیرہ کبھی ادا نہ کرتے،یہ بھی خیال رہے کہ اس وقت ان نسخوں کا جلا ڈالنا ہی بہتر بلکہ ضروری تھا کہ اگر وہ دفن ہوتےتو بعد میں پھر نکال لیے جاتےاور ان کی اشاعت سے فساد پھیلتا اور اتنے اوراق دھونا دشوار بھی تھا اور خطرناک بھی ورنہ بے کار قرآن کے اوراق کا دفن کردینا بہتر ہے یا اگر قلمی ورق ہو تو اسے دھو کر پی لینا افضل ہے کہ یہ پانی ہر مرض کی شفا ہے۔ مرقاۃ ۱۲؎ ابن شہاب امام زہری کی کنیت ہے اور خارجہ زید ابن ثابت کے بیٹے ہیں،مدینہ منورہ کے بڑے علماء میں سے تھے تابعی ہیں انہوں نے اپنے والد زید ابن ثابت سے یہ سنا۔ ۱۳؎ یعنی جب ہم نے صحیفہ صدیقی سے صحف عثمانیہ میں قرآن شریف نقل کیا تو اس صحیفہ میں یہ آیت نہ ملی غالب یہ ہے کہ وہ پرچہ اس عرصہ میں گم ہوگیا ہوگا یا گل گیا ہوگا ورنہ حضرت صدیق اکبر کے زمانہ میں ساری آیتیں مع ساری قرأتوں کے جمع ہوچکی تھیں ان بزرگوں کو یہ آیت بخوبی یاد تھا مگر کوشش یہ کی گئی کہ کہیں سے یہ آیت لکھی ہوئی بھی مل جائے اور ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ عہد صدیقی میں جمع قرآن کے وقت کا ہو۔ ۱۴؎ یعنی لکھی ہوئی صرف حضرت خزیمہ انصاری کے پاس تھی باقی دوسرے لوگوں کو یاد ضرور تھی حضرت خزیمہ کی کنیت ابو عمارہ ہے،اوسی ہیں،بدری ہیں،بدراور اس کے بعد کے تمام غزوات میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے، جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے اسی جنگ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ۔ ۱۵؎ اس طرح کہ یہ آیت سورۂ احزاب میں اپنی جگہ پر رکھ دی گئی،مرقات نے فرمایا کہ غالب یہ ہے کہ یہ واقعہ پہلی جمع کے وقت ہوا یعنی زمانہ صدیقی اس وقت سورہ توبہ کی آیت "لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ"کا بھی یہی معاملہ ہوا تھا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ زمانہ صدیقی میں تمام قرآن جمع ہوجائے اور پھر یہ آیت اس میں نہ ہو،یہ جمع ۲۵ھ میں ہوا۔مرقات نے فرمایا کہ عہد صدیقی کا جمع کیا ہوا قرآن مروان ابن حکم کے زمانہ میں جلادیا گیا حضرت حفصہ کی وفات کے بعد۔اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ حضرت علی نے بھی نزول کے مطابق قرآنی آیات جمع فرمائی تھیں مگر فتنہ کے خوف سے اس قرآن کی اشاعت نہ کی بلکہ اسے تلف کردیا تاکہ مسلمانوں میں دو قرآن نہ ہوجائیں کہ یہ سخت فتنہ کا باعث ہوگا۔