Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
443 - 5479
حدیث نمبر 443
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سورتوں میں فاصلہ نہ پہچانتے تھے حتی کہ آپ پر بسم اﷲ الرحمن الرحیم اتری تھی ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ حدیث مذہب حنفی کی قوی دلیل ہے کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم ہر سورت کا جزء نہیں ہے بلکہ سورتوں کے درمیان فیصلہ کے لیے نازل فرمائی گئی ہے اسی لیے امام جہری نمازوں میں بسم اﷲ بلند آواز سے نہیں پڑھتا اور جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پرسب سے پہلی سورۃ یعنی اقرأ باسم ربك اتری تو بسم اﷲ نہ اتری کہ یہ نزول میں پہلی سورت تھی یہاں فصل کرنے کی ضرورت نہ تھی اور اس لیے بسم اﷲ دوسری آیتوں سے ملا کر نہیں لکھی جاتی بلکہ علیحدہ سطر میں لکھی جاتی ہیں اور اس لیے   سورۃ توبہ میں بسم اﷲ نہ لکھی گئی کیونکہ وہاں بسم اﷲ کی جگہ معلوم نہ ہوسکی سورۃ توبہ کا علیحدہ سورت ہونا مشکوک تھا اس لیے وہاں سورۃ کا نام تو لکھ دیا گیا بسم اﷲ نہ لکھی گئی، بعض علماء نے فرمایا کہ بسم اﷲ رحمت کی آیت ہےاور سورۃ توبہ عذاب و قہر کی سورۃ ہے اس لیے قہر کی سورت میں رحمت کی آیت مناسب نہیں۔(مرقات لمعات مع اضافہ)
Flag Counter