۱؎ یہ حدیث مذہب حنفی کی قوی دلیل ہے کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم ہر سورت کا جزء نہیں ہے بلکہ سورتوں کے درمیان فیصلہ کے لیے نازل فرمائی گئی ہے اسی لیے امام جہری نمازوں میں بسم اﷲ بلند آواز سے نہیں پڑھتا اور جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پرسب سے پہلی سورۃ یعنی اقرأ باسم ربك اتری تو بسم اﷲ نہ اتری کہ یہ نزول میں پہلی سورت تھی یہاں فصل کرنے کی ضرورت نہ تھی اور اس لیے بسم اﷲ دوسری آیتوں سے ملا کر نہیں لکھی جاتی بلکہ علیحدہ سطر میں لکھی جاتی ہیں اور اس لیے سورۃ توبہ میں بسم اﷲ نہ لکھی گئی کیونکہ وہاں بسم اﷲ کی جگہ معلوم نہ ہوسکی سورۃ توبہ کا علیحدہ سورت ہونا مشکوک تھا اس لیے وہاں سورۃ کا نام تو لکھ دیا گیا بسم اﷲ نہ لکھی گئی، بعض علماء نے فرمایا کہ بسم اﷲ رحمت کی آیت ہےاور سورۃ توبہ عذاب و قہر کی سورۃ ہے اس لیے قہر کی سورت میں رحمت کی آیت مناسب نہیں۔(مرقات لمعات مع اضافہ)