Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
438 - 5479
حدیث نمبر 438
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں،میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا اس نے ایسی قرأت کی جس کا میں نے انکار کیا ۱؎ پھر دوسرا شخص آیا تو اس نے بھی اس پہلے والے کی قرأۃ کے سواء اور قرأت کی ۲؎ جب ہم نماز پڑھ چکے اور ہم سب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۳؎ تو میں نے عرض کیا کہ ان صاحب نے ایسی قرأت کی ہے جس کا میں انکاری ہوں اور دوسرے صاحب آئے تو انہوں نے ان کے سوا اور ہی قرأت کی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں کو حکم دیا انہوں نے قرأت کی ۴؎ تو حضور نے ان کی تعریف کی اس سے میرے دل میں کچھ تردد پیدا ہوا ۵؎ جو زمانہ جاہلیت میں نہ ہوا تھا۶؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ پر چھایا ہوا تردد ملاحظہ کیا تو میرے سینے پر دستِ اقدس مارا کہ میں پسینے سے نچڑ گیا اور ڈر سے میں ایسا ہوگیا گویا ر ب کو دیکھ رہا ہوں ۷؎ مجھ سے فرمایا اے ابی قرآن مجھ پر ایک قرأت میں بھیجا گیا تھا میں نے رب کی بارگاہ میں رجوع کیا کہ الٰہی میری امت پر آسانی کر ر ب نے مجھے دوبارہ جواب دیا کہ دو قرأتوں پر پڑھ سکتے ہو پھر میں نے رب کی طرف رجوع کیا کہ میر ی امت پر آسانی فرما رب نے تبارہ جواب دیا کہ سات قرأتوں پر تلاوت کرسکتے ہو ۸؎ اور اے محبوب تمہیں ہر بار عرض کے عوض ایک خصوصی دعا بخشے ہیں جو تم ہم سے مانگ لینا ۹؎ میں نے عرض کیا الٰہی میری امت بخش دے الٰہی میری امت بخش دے ۱۰؎ اور میں نے تیسری دعا اس دن کے لیے بچا رکھی ہے جب ساری خلقت حتی کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میرے در پر شفاعت کے لیے آئیں گے ۱۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ غالبًا یہ قرأۃ نماز سے خارج ہوگی یعنی انہوں نے نماز سے فارغ ہو کر قرآن کریم تلاوت کی اس تلاوت میں یہ واقعہ پیش آیا انکار کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت ابی نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اور طرح تلاوت سیکھی تھی اور یہ دوسری طرح تھی ان کے علم میں یہ بات نہ تھی کہ تلاوت قرآن مختلف طرح سے درست ہے یہاں انکار سے مراد دلی انکار ہے یعنی میں نے دل میں ان پر اعتراض کیا۔

۲؎ یعنی ان دوسرے صاحب کی قرأت میری قرأت کے بھی خلاف تھی اور اس پہلے شخص کی قرأۃ کے بھی خلاف،اس سے میرا تعجب و انکار اور بڑھ گیا۔

۳؎ مرقات نے فرمایا غالبًا یہ نماز چاشت تھی جو آگے پیچھے ان بزرگوں نے پڑھی،مسجد نبوی میں ان سب کا اجتماع ہوگیا فرض نماز ہوتی تو ایک ساتھ جماعت سے پڑھی جاتی لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے،بعد نماز یہ حضرات حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی حجرے میں حاضر ہوئے جہاں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم جلوہ گر تھے۔

 ۴؎ وہ ہی قرأتیں کی جو میں نے ان دونوں سے سنی تھیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں کی ان مختلف قرأتوں کو صحیح فرمایا کہ تم بھی ٹھیک پڑ ھتے ہو اور تم بھی۔

۵؎ ظاہر یہ ہے کہ فسقط معروف ہے اس لیے اس کے یہ معنے کیے گئے اور تکذیب سے مراد ہے اس کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کہ اگر یہ کلام ربانی ہوتا تو ایک ہی طرح ہوتا چند طرح کیسا۔خیال رہے کہ بے اختیاری برے خیال کو وسوسہ کہتے ہیں اس پر نہ عذاب ہے نہ سزا یہ وسوسہ ہی تھا اس لیے حضرت اُبَی پر نہ فتویٰ کفر لگ سکتا ہے نہ فتویٰ فسق،اس لیے سقط فرمایا یعنی غیر اختیاری طور پر دل میں بدگمانی سی پیدا ہوئی۔

۶؎ یعنی آج کا یہ انکار غیراختیاری اتنا قوی تھا کہ اس سے پہلے حالت کفر میں اس قسم کا اتنا سخت انکار میرے دل میں نہ آیا تھا۔خیال رہے کہ اس انکار کو اتنا سخت کہنا اس لیے ہے کہ پہلے تو وہ مسلمان تھے ہی نہیں اس وقت انکار کرنا اتنا بڑا جرم نہ تھا اب ہوچکے تھے مسلمان اور مسلمان ہو کر انکار بڑا جرم ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اتنا خطرناک انکار زمانہ کفر میں میرے دل میں نہ آیا تھا اس انکار کو خطرناک جاننا کمال ایمان کی دلیل ہے اور یہ ندامت بہترین عبادت۔ ہوسکتا ہے کہ پوشیدہ ہو اور من التکذیب کی تعلیلہ یعنی اس غیر اختیاری تکذیب کی وجہ سے مجھے اتنی شرمندگی ہوئی اور میرے دل میں ایسی ندامت واقع ہوئی کہ ایسی ندامت اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی نہ کفر میں نہ اسلام میں اس صورت میں معنی بالکل واضح ہیں۔

۷؎ اس واقع میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے تین معجزے ظاہر ہوئے:ایک یہ حضرت ابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ندامت و شرمندگی معلوم فرمالینا دوسرے دست اقدس رکھ کر اس انکار اور ندامت کو ختم فرمادینا،تیسرے حضرت ابی ابن کعب کواحسان کے اعلیٰ درجہ پر پہنچا دینا کہ حضرت ابی کو یہ محسوس ہونے لگا کہ میں رب کو دیکھ رہا ہو ا اس وقت جو فیضان ہوا ہوگا وہ بیان سے باہر ہے حضرت ابی کو پسینہ آجانا قوت فیض کی بنا پر تھا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو جاڑوں کے موسم میں وحی نازل ہونے پر پسینہ آجاتا تھا بعض مشا ئخ اپنے مریدین کو ان کے سینے پرہاتھ مار کر فیض دیتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۸؎ سرکار عالی کا یہ ارشاد فرمانا جنانی تسکین عطا فرمانے کے بعد لسانی تسکین ہے حضرت ابی کو اطمینان تو پہلے ہی ہوچکا تھا مگر وہ بیان میں نہ آسکتا تھا اب کلامًا ارشاد فرمایا جس کی تبلیغ بھی ہو سکتی ہے گویا پہلے طریقت سکھائی پھر شریعت بتائی۔

۹؎ یعنی اے محبوب ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ قرآن کریم کی قرأتیں سات ہوں گی مگر ہمارا منشاء یہ تھا کہ یہ آسانی تمہاری طلب پر دیں تاکہ ہماری یہ نعمت امت کو تمہارے طفیل ملے جیسے پچاس نمازوں کی پانچ رہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرض اور تمہاری کوشش سے اور ہم کو تمہاری یہ عرض و معروض ایسی پیاری معلوم ہوئیں کہ ہم تمہیں ہر عرض پر ایک انعام خاص بخشے ہیں کہ تم نے تین بار عرض کیا ہم تمہیں تین خصوصی دعائیں دیتے ہیں جو مانگو سو پاؤ۔

۱۰؎  اس رحمت والے داتا کے قربان اس کی دین کے صدقے اس وقت حضور اپنے اور اپنی اولاد کے لیے جو چاہتے مانگ لیتے مگر امت کو یاد فرمایا۔خیال رہے کہ پہلی بخشش سے کبیرہ گناہوں کی بخشش مراد ہے اور دوسری بخشش سے صغیرہ گناہوں کی مغفرت مقصود یعنی الٰہی میری امت کے چھوٹے بڑے سارے گناہ بخش دے چونکہ یہ بخششیں صرف مجرم مسلمانوں کے لیے ہی ہوسکتی ہیں اس لیے اپنی امت کا ذکر کیا۔

۱۱؎  یعنی تیسری دعا قیامت کے لیے اٹھا رکھی ہے اس دعا کا فائدہ کفار،مسلمان گنہگار،نیک کار انبیائے کرام،اولیائے عظام سب ہی اٹھائیں گے کہ اس دعا سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم شفاعت کبریٰ کا دروازہ کھولیں گے اس کی برکت سے کفار کو میدان محشر سے نجات ہم گنہگاروں کو دوزخ سے نجات،نیک کاروں کو رفع درجات میسر ہوں گے اور سب کے لیے عرض حاجات کا دروازہ کھل جائے گا اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نام کی دھوم مچ جائے گی۔شعر

گرتے ہوؤں کو مژدہ سجدہ میں گرے مولا		  	رو رو کے شفاعت کی تمہید اٹھائی ہے
اللھم صل وسلم وبارك علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم
Flag Counter