Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
439 - 5479
حدیث نمبر 439
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھے جبریل نے ایک قرأت پر قرآن پیش کیا تھا مگر میں نے انہیں واپس بھیجا میں رب سے زیادہ مانگتا رہا رب مجھے زیادہ دیتا رہا،حتی کہ سات قرأتوں تک پہنچ گیا ۱؎ ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے خبر ملی ہے کہ یہ سات قرأتیں حقیقتًا ایک ہی ہیں جو حلال و حرام میں مختلف نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی پہلی ایک قرأت تو رب تعالٰی کی طرف سے میری بغیر طلب ملی،بقیہ چھ قرأتیں میری طلب پر عطا ہوئیں۔یہ قرآنی آیات بلکہ اسلامی احکام کا حال ہے کہ بعض تو خود ر ب تعالٰی نے عطا فرمائیں اور بعض حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی طلب و خواہش پر دی گئیں رب تعالٰی فرماتاہے:"قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ"الایہ۔معلوم ہوا کہ تبدیلی قبلہ کا حکم اور ا س کی آیت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہش کی بنا پر ہے اس خواہش میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبوبیت کا اظہارہے ـ

۲؎ ابن شہاب یعنی امام زہری کا مقصد یہ ہے کہ یہاں سبعۃ احرف سے مراد احکام قرآنی نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا وہ بولے کہ قصے،مثالیں،امر،نہی حلال،حرام،محکم،متشابہ و غیرہ مضامین جو قرآن کریم میں وارد ہوئے یہاں وہ مرا دہیں،امام زہری فرماتے ہیں نہیں یہ مراد نہیں بلکہ سات قرأتیں مراد ہیں کہ ان قرأتوں میں صرف حروف کی ہیئتوں میں فرق ہوتا ہے معانی و احکام وغیرہ میں فرق نہیں ہوتا۔ علماء اصول نے فرمایا کہ قرآن میں مطلق مفید،عام،خاص،نص،قول،ناسخ،منسوخ،مجمل مفسر وغیرہ ہیں، نحویوں نے کہا کہ اس میں ذکر،حذف،تقدیم،،تاخیر،استعارہ،تکرار،کنایہ،حقیقت و مجاز وغیرہ ہیں۔صوفیاء نے فرمایا کہ قرآن میں زہد و قناعت،یقین،حرف،خدمت،حیاء،کرم،مجاہدہ،مراقبہ،خوف،امید،رضاء،شکر و صبر محبت شوق،مشاہدہ وغیرہ ہیں،یہاں وہ مراد ہے،مگر امام زہری کا قول قوی ہے کہ یہاں سات قرأتیں مراد ہیں۔
Flag Counter