| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے ایک شخص کو تلاوت کرتے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کے خلاف تلاوت کرتے سنا تھا تو میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لایا یہ سب بتایا تومیں نے حضور انور کے چہرہ منور میں ناراضی دیکھی ۱؎ فرمایا تم دونوں ٹھیک ہو ۲؎ آپس میں جھگڑو مت کیونکہ تم سے پہلے لوگ جھگڑے تو ہلاک ہوگئے ۳؎ (بخاری)
شرح
۱؎ یہ ناراضی قرآن شریف میں اختلاف کی وجہ سے ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو خطرہ تھا کہ کہیں مسلمان کتاب اﷲ میں یہودونصاریٰ کی طرح اختلاف نہ کرنے لگیں۔ ۲؎ یعنی تم نے جو سنا وہ ٹھیک سنا اور انہوں نے جو پڑھا درست پڑھا تمہارا سننا ان کا پڑھنا دونوں ٹھیک ہیں چونکہ تمہیں یہ خبر نہ تھی کہ قرآن کریم کی قرأت مختلف طریقوں سے جائز ہے اس لیے تم یہ انکار کر بیٹھے تمہیں ان صحابی سے اچھا گمان کرنا چاہیئے تھا انہیں میرے پاس لانا نہ چاہیئے تھا۔ ۳؎ اس طرح کہ یہود نے توریت کے اور عیسائیوں نے انجیل کے مختلف نسخے بنادیئے اور ہر جماعت نے دوسرے نسخے کا انکار کردیا اور کلام الٰہی کا انکار کفر ہے۔