روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے ہشام ابن حکیم ابن حزام کو سنا ۱؎ کہ وہ سورہ فرقان اس کے خلاف پڑھ رہے ہیں جو میں پڑھتا تھا اور مجھے یہ سورہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پڑھائی تھی ۲؎ قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں مگر میں نے انہیں مہلت دی حتی کہ فارغ ہوگئے پھر میں نے انہیں ان ہی کی چادر میں لپیٹ لیا ۳؎ پھر انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لایا اور عرض کیا یارسول اﷲ میں نے انہیں سنا کہ سورۂ فرقان اس کے علاوہ پڑھ رہے ہیں جو مجھے حضور نے پڑھائی ہے ۴؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو۵؎ ہشام پڑھو انہوں نے وہ ہی قرأت تلاوت کی جو میں نے انہیں تلاوت کرتے سنی تھی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یوں ہی اتری ہے پھر مجھ سے فرمایا پڑ ھو میں نے پڑھی فرمایا یوں بھی اتری ہے یہ قرآن سات قرأت پر اترا ہے۔جس طر ح آسان ہو تلاوت کرلیا کرو ۶؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں ۷؎
۱؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حکیم ابن حزام قرشی ہیں حضرت ام المؤمنین خدیجۃ الکبری کے بھتیجے ہیں فتح مکہ کے دن ایمان لائے آپ کے ساری اولاد صحابی ہے ان میں سے ہشام بھی ہیں۔
۲؎ یعنی مجھے اپنی قرأت کے صحیح ہونے کا یقین تھا کیو نکہ میں نے کسی اور سے نہ سیکھی تھی خو د حصور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھی تھی اس لیے مجھے شبہ ہوا کہ ہشام دیدہ و دانستہ قرآن غلط پڑ ھ رہے ہیں۔
۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ دین میں کسی کی رعایت نہیں عزیز قریبی ہو یا اجنبی معمولی آدمی ہو یا بڑا۔ دوسرے یہ کہ تلاوت قرآن کا بڑا احترام ہے کسی شخص کو دوران تلاوت میں اس سے لڑنا جھگڑنا نہیں چاہیئے نہ اس کی تلاوت میں رکاوٹ ڈالئے دیکھو حضرت عمر قرآن کے الفاظ میں فرق دیکھ کر طیش میں آگئے مگر تلاوت ختم ہونے پر حضرت ہشام کو گویا گرفتار کرلیا نہ رعایۃً نہ قرابۃً کی تلاوت۔
۴؎ اس لیے میں انہیں گرفتار کرکے آپ کی خدمت میں لایا ہوں تاکہ آپ اس سے منع فرمادیں اورگزشتہ قصور پر سزا دیں۔ معلوم ہوا کہ حتی الامکان کسی ملزم کو خود سزا نہ دو حاکم سے فیصلہ کراؤ۔
۵؎ چونکہ حضرت عمر کا یہ طیش نفس کے لیے نہ تھا اﷲ کے لیے تھا،نیز حضرت عمر مثل استاد کے تھے اور حضرت ہشام مثل شاگرد کے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو حضرت عمر پر عتاب فرمایا اور نہ انہیں حضرت ہشام سے معافی مانگنے کا حکم دیا جیسے حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون کی بے قصور داڑھی سر کے بال پکڑ لیے انہیں کھینچا کیونکہ ماں باپ استاد شیخ اگر غلط فہمی سے کسی کو سزا ناجائز طور پر بھی دیدیں تب بھی مجرم نہیں۔
۶؎ محدثین فرماتے ہیں کہ قرآن شریف لغت قریش میں نازل ہوا مگر چونکہ عرب کے بہت سے قبیلے تھے جن کی زبانیں مختلف تھیں ہر قبیلہ کی زبان گراں معلوم ہوتی تھی،اپنی زبان آسان تھی اور زمانہ بالکل نیا تھا اندیشہ تھا کہ دوسرے قبیلے تلاوت قرآن چھوڑ دیں گے اسی لیے سات بلکہ سات سے بھی زیادہ طریقوں سے تلاوت کی اجازت دے دی گئی تھی،یہاں سات سے مراد بیان زیادتی ہے نہ کہ خاص یہ عدد اور حرف سے مراد طریقہ تلاوت ہے خواہ خود حرف کی ذات میں فرق ہو جیسے نُنْشِزُھَا ز سے اور نُنْشِرُھَا رائے مہملہ سے یا صفات حرف میں فرق ہو جیسے"مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"اور "مَلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"خواہ طریقہ ادا میں فرق ہو جیسے ادغام اظہار تفخیم،ترقیق،امالہ،مد قصر،تلیین وغیرہ مگر ان اختلاف کی وجہ سے معافی نہ بدلیں گے قرآن کریم کی سات قرأتیں تو متواتر ہیں اور چودہ شاذ،متواتر قرأتوں کی تلاوت کرے شاذ کی نہ کرے جیسے"فصیام ثلثہ ایام متوالیات"یا جیسے"و صلوۃ الوسطی صلوۃ العصر"وغیرہ اب ہماری قرأت ابو حفص عن عاصم والی ہے قاریوں کو چاہیئے کہ اس کی قرأۃ کیا کر یں،ورنہ عوام میں فتنہ پھیلے گا اور لوگ ان قرأتوں کا انکار ہی کردیں گے۔
۷؎ بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ حدیث متواتر ہے اکیس صحابہ سے مروی ہے شاید متواتر سے مراد متواتر المعنی ہو۔(مرقاۃ)
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو اﷲ کے لیے صبح کو سو بار سبحان اﷲ پڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو سو حج کرے ۱؎ اور جو صبح کو سو بار الحمدﷲ پڑھے اور سو بار شام کو تو اس جیسا ہوگا جو اﷲ کی راہ میں سو گھوڑے خیرات کرے ۲؎ اور جو صبح کو سو بار لاالہ الا اﷲ پڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو اولاد حضرت اسماعیل سے سو غلام آزاد کرے ۳؎ اور جو صبح کو سو بار اﷲاکبر پڑھے اور سو بار شام کو تو کوئی اس سے زیادہ نیکیاں اس دن نہ کرسکے گا بجز اس کے جو اتنی ہی بار یہ کلمات کہہ لے یا اس سے زیادہ۴؎ ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
۱؎ یعنی شروع دن میں سو بار سبحان اﷲ کہے اور شروع رات میں بھی سو بار تو اسے نفلی سو حجوں کے برابر ثواب ملے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ تسبیح سے مراد حضور دل کے ساتھ تسبیح پڑھنا ہے اور حج سے مراد وہ حج ہیں جو غفلت سے کئے جائیں۔مطلب یہ ہے حضور قلبی کے ساتھ آسان نیکی غفلت کے مشکل اعمال سے افضل ہوتی ہے۔خیال رہے کہ حج کا ثواب ملنا اور ہے حج کی ادا کچھ اور،یہاں ثواب کا ذکر ہے نہ کہ ادائے حج کا جیسے اطباء کہتے ہیں کہ ایک گرم کئے ہوئے منقہ میں ایک روٹی کی طاقت ہے مگر پیٹ روٹی ہی سے بھرتا ہے،کوئی شخص دو وقت تین تین منقے کھا کر زندگی نہیں گزار سکتا۔واقعی ان تسبیحوں میں اتنا ہی ثواب ہے مگر حج ادا کرنے ہی سے ہوں گے۔جو رب باجرے کے ایک دانہ سے سات بالیاں دے سکتا ہے جن کے دانے ہماری شمار میں نہیں ہوتے وہ رب تسبیحوں پر اتنا ثواب بھی دے سکتا ہے۔اس قسم کے ثوابوں کا وعدہ قرآن کریم میں بھی کیا گیا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ"الخ یعنی جولوگ راہ خدا میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال اس دانہ کی طرح ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں ہر بالی سے سو دانے اور اﷲ جسے چاہے اس سے بھی کہیں زیادہ عطا فرمائے گا اس قسم کی احادیث اور آیتوں کو مبالغہ یا جھوٹ سمجھنا بے دینی ہے،رب تعالٰی کی دین ہمارے خیال سے وراء ہے اسے روکنے والا کون ہے۔
۲؎ یعنی سو غازیوں کو جہاد کرنے کے لیے سو گھوڑے دے جو ان پر سوار ہوکر جہاد کریں۔خیال رہے کہ جہاد وغیرہ کا اصلی مقصد ذکراﷲ کی اشاعت ہے،مؤمن ملک گیری کے لیے نہیں لڑتا بلکہ ذکر سے رکاوٹیں دور کرنے کے لیے لڑتا ہے اور حمد الٰہی یقینًا سو جہادوں سے افضل ہے کہ جہاد مقصود لغیرہٖ اور یہ مقصود لعینہٖ۔
۳؎ کہ دیگر غلاموں سے اولاد اسماعیل علیہ السلام کا آزاد کرنا افضل ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اولاد اسمعیل سے مراد اہل عرب ہیں کہ وہ سب ان کی اولاد ہیں،چونکہ عرب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے قرب رکھتے ہیں اس لیے ان پر احسان کرنا افضل۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی اولاد خصوصًا سادات کرام سے سلوک کرنا بہتر ہے۔
۴؎ یہ حدیث تسبیح قادری کی اصل ہے،سلسلہ قادریہ میں روزانہ صبح شام سبحان اﷲ سو بار،الحمدﷲ سو بار،لا الہ الا اﷲ سو بار،اﷲ اکبر سو بار پڑھا جاتا ہے یہ وظیفہ اس حدیث سے لیا گیا۔