Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
433 - 5479
حدیث نمبر 433
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو کیونکہ اچھی آواز قرآن کا حسن بڑھا دیتی ہے ۱؎ (دارمی)
شرح
۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ ہر شخص کی آواز اس کے لحاظ سے ہوگی،ایک ہی شخص اپنی آواز بری بھی نکال سکتا ہے اور کچھ اچھی بھی تو قرآن کی تلاوت میں اچھی آواز استعمال کرو یہ مطلب نہیں کہ جس کی آواز اچھی نہ ہو وہ تلاوت قرآن ہی نہ کرے،حضرت بلال اسی موٹی آواز سے ہی اذان و تلاوت کرتے تھے رب تعالٰی کو وہ ہی پیاری تھی کہ وہاں دل کی آواز سنی جاتی ہے۔شعر

گفت ہا تف بازاز بانگ بلال			خوش شدے بر عرش رب ذوالجلال

مطلب یہ ہے کہ حتی الامکان خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھوتاکہ سننے والوں کو قرآن کی طرف میلان ہو یہ نہ ہو کہ شعر

گر تو قرآن بدیں نمط خوانی			میروی رونق مسلمانی

یا اس اچھی آواز کامطلب وہ ہے جو اگلی حدیث میں آرہا ہے یعنی دور والی آواز جو درد دل کا پتہ دے،خشوع و خضوع ظاہرکرے۔
Flag Counter