۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ ہر شخص کی آواز اس کے لحاظ سے ہوگی،ایک ہی شخص اپنی آواز بری بھی نکال سکتا ہے اور کچھ اچھی بھی تو قرآن کی تلاوت میں اچھی آواز استعمال کرو یہ مطلب نہیں کہ جس کی آواز اچھی نہ ہو وہ تلاوت قرآن ہی نہ کرے،حضرت بلال اسی موٹی آواز سے ہی اذان و تلاوت کرتے تھے رب تعالٰی کو وہ ہی پیاری تھی کہ وہاں دل کی آواز سنی جاتی ہے۔شعر
گفت ہا تف بازاز بانگ بلال خوش شدے بر عرش رب ذوالجلال
مطلب یہ ہے کہ حتی الامکان خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھوتاکہ سننے والوں کو قرآن کی طرف میلان ہو یہ نہ ہو کہ شعر
گر تو قرآن بدیں نمط خوانی میروی رونق مسلمانی
یا اس اچھی آواز کامطلب وہ ہے جو اگلی حدیث میں آرہا ہے یعنی دور والی آواز جو درد دل کا پتہ دے،خشوع و خضوع ظاہرکرے۔