۱؎ سبحان اﷲ! کیا پیارا سوال ہے مقصد یہ ہے کہ لوگ اچھی آواز تو سریلی رسیلی آواز کو سمجھتے ہیں اور نغمہ والی تلاوت کو اچھی تلاوت سمجھتے ہیں،سرکار نے جو اچھی آواز میں تلاوت قرآن کا حکم دیا ہے کیا اس سے بھی یہ ہی مراد ہے یا کچھ اور۔
۲؎ یہ حدیث تمام ان احادیث کی شرح ہے جس میں اچھی آواز،اچھی تلاوت کا حکم دیا گیا یعنی درد دل والی اداء اور خوف خدا والی قرأت اچھی ہے نفس آواز باریک ہو یا موٹی بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ ان کی آواز موٹی تھی مگر ان کی تلاوت سے خود ان کے اور سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے دل کانپ جاتے تھے،اﷲ تعالٰی ایسی تلاوت نصیب کرے۔آمین !
۳؎ یعنی طلق ابن علی ابن عمرو نخعی یمامی اسی طرح تلاوت کرتے تھے کہ خدا یاد آجاتا تھا،آپ قیس ابن طلق یمانی کے والد ہیں مشہور صحابی ہیں حضرت طاؤس نے ان سے ملاقات کی ہے۔