Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
432 - 5479
حدیث نمبر 432
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید عربی لہجوں اور عربی آوازں سے پڑھو ۱؎ عشق والوں کی راگنیوں اور توریت و انجیل والوں کے لہجوں سے بچو ۲؎ ہمارے بعد وہ قومیں آئیں گی جو قرآن میں ایسی گلے بازیاں کریں گے جیسے گانے اور نوحے میں۳؎ قرآن ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا ۴؎  ان کے اور انہیں پسند کرنے والوں کے دل فتنہ میں مبتلا ہوں گے ۵؎(بیہقی شعب الایمان)اور رزین نے اپنی کتاب میں۔
شرح
۱؎ اہل عرب کی تلاوت میں صرف آواز کی عمدگی،مخارج کی صحت،اداء الفاظ کی نفاست ہوتی ہے تکلف اور موسیقی کے طریقوں سے خالی،چونکہ قرآن شریف عربی ہے اسے عربی طریقے سے پڑھو،لحن کے معنے ہیں خوش و طرب اور آواز کی لچک و لہر۔

۲؎ یعنی نہ تو قر آن گیت کے نغموں سے گاؤں جیسے عشاق گویے ٹھمری،داد رے وغیرہ گاتے ہیں اور نہ ایسے تکلفات سے پڑھو جیسے یہود و نصاری توریت و انجیل پڑھتے ہیں جن سے اصل عبارت بگڑ جاتی ہے جہاں مدنہ ہو وہاں پیدا ہوجاتاہے جہاں شد ہو وہاں نہیں رہتا۔الف زبر بن جاتا ہے زبر الف وغیرہ،فقیر نے بعض قوالوں کو قرآنی آیات طبلے سارنگی پر نغموں کی طرح سے گاتے سنا کہ ان کے گیتوں میں آیتیں ہیں انہیں باجوں پر گاتے ہیں۔

۳؎ یعنی قرآن میں گلے بازیاں،راگ راگنی و آوازیں بھرانے سے کام لیں گے اسے گیت یا قوالی کا شعر بنادیا کریں گے،جیسا کہ آج دیکھا جارہا ہے اس غیب دان نبی نے پہلے ہی اس کی خبر دے دی تھی۔

۴؎ یعنی صرف زبان پر قرآن کے الفاظ ہوں گے دل پر قرآن کا کوئی اثر نہ ہوگا ایمان میں تازگی نہ پیدا ہوگی نہ ان کے سامعین کے کیونکہ جو منہ سے نکلتا ہے وہ کان پر گرتا ہے جو دماغ سے نکلتا ہے وہ دماغ پرگرتا ہے۔جو دل سے نکلتا ہے وہ دل پرگرتا ہے۔

۵؎ یعنی خود ان کے اور سامعین کے دل اس تلاوت سے فائدہ نہ اٹھائیں گے بلکہ الٹا نقصان۔
Flag Counter