روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر تشریف لائے جب ہم قرآن پڑھ رہے تھے عربی اور عجمی سب ہی تھے ۱؎ فرمایا پڑھے جاؤ سب ٹھیک ہو ۲؎ کچھ قومیں ایسی ہوں گی جو تلاوت کو ایسے درست کریں گی جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے ۳؎ دنیا میں اجرت لیں گے آخرت کے لیے نہ رکھیں گے ۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یعنی اس مجلس میں شہری صحابی بھی تھے اور دیہات کے باشندے بھی عربی و اعرابی میں یہ ہی فرق ہے کہ عربی عام ہے اعرابی خاص اہل دیہات اور عربی بھی تھے بیرون عرب کے بھی کہ بلال حبشہ کے تھے،سلمان فارس کے،صہیب روم کے رضی اللہ عنہم غرض کہ شعر لگایا تھا مالی نے اک باغ ایسا نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پودا ۲؎ یعنی قرآن شریف عجمی،عربی،شہری،بدوی سب کے لیے آیا ہے،سب ہی تلاوت کیا کرو عجمی یہ خیال نہ کریں کہ چونکہ ہمارا لہجہ عرب کا سا نہیں ہوسکتا لہذا ہم تلاوت ہی چھوڑ دیں،جو لہجہ بن پڑے اس میں پڑھو۔ہاں صحیح پڑھو لہجے کا اعتبار نہیں صحت کا اعتبار ہے اور اخلاص کا ثواب۔شعر مادروں رابنگریم وحال را ما بروں را ننگریم وقال را ۳؎ یعنی آخری زمانہ میں محض ریاء و نمود کے لیے قرآن کا لہجہ درست کرنے میں بہت تکلفات کریں گے مگر ثواب سے محروم رہیں گے اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔ ۴؎ یعنی ان کی یہ تمام محنتیں صرف لہجہ حسین کرنے کے لیے ہوں گی تاکہ دنیا دار پسند کریں،واہ واہ ہو،پیسے خوب ملیں اخلاص نہ ہوگا پھر ثواب کیسے پائیں،جان کی قیمت ہوتی ہے نہ کہ محض قالب کی،ہرعبادت کا یہ ہی حال ہے اﷲ تعالٰی اخلاص نصیب کرے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ناراضی ان کی محنت پر نہیں بلکہ ریاء و نمود پر ہے۔