| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن جریج سے وہ ابن ابو ملیکہ سے وہ حضرت ام سلمہ سے راوی فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے ۱؎ اس طرح کہ پڑھتے الحمد ﷲ رب العلمین پھرٹھہر جاتے پھر پڑھتے الرحمن الرحیم پھر ٹھہر جاتے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مسلسل نہیں ۳؎ کیونکہ یہ حدیث لیث نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے یعلی ابن مملک سے انہوں نے ام سلمہ سے روایت کی لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے۴؎
شرح
۱؎ یعنی ہر آیت پرٹھہرکر سانس توڑ دیتے تھے،پھر دوسری آیت تلاوت فرماتے تھے،سکتہ اور وقف میں یہ ہے فرق ہے کہ وقف میں سانس توڑ دی جاتی ہے پھرٹھہرا جاتا ہے مگر سکتہ میں ٹھہرتے تو ہیں سانس نہیں توڑتے۔ ۲؎ قراء کہتے ہیں کہ وقف تین قسم کا ہے:وقف حسن،وقف کافی،وقف تام الرحمن الرحیم پر وقف کافی ہے،وقف حسن نہیں۔بہتر یہ ہے کہ ملك یوم الدین پر وقف کرے اسی طرح رب العلمین پر وقف تام تو ہے حسن نہیں۔وقف حسن یہ ہے کہ الحمد سے شروع کرکے یوم الدین پر ٹھہرے،ہمارے ہاں لوگ رب العلمین پر وقف کو سخت برا جانتے ہیں یہ بھی درست نہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ہاں یہ کہو کہ بہتر نہیں۔ ۳؎ کیونکہ ابن ابی ملیکہ نے حضرت ام سلمہ سے ملاقات نہیں کی،لہذا درمیان میں کوئی راوی چھوٹ گئے حدیث منقطع ہے۔ ۴؎ خلاصہ یہ ہے کہ ابن ابی ملیکہ سے لیث ابن سعد نے بھی روایت کی ہے اور جریج نے بھی مگر لیث ابن سعد کی روایت صحیح تر ہے کہ اس میں کوئی راوی چھوٹا نہیں،ام سلمہ سے پہلے یعلی ابن مملک کا ذکر ہے اور جریج کی روایت میں راوی چھوٹ گیا ہے یہ مقطع ہے،لیث ابن سعد بہت ثقہ تھے،انہوں نے ابن ابی ملیکہ عطاء زہری سے روایات لیں۔اور ان سے بہت محدثین نے،انہیں بیس ہزار دینار کی سالانہ آمدنی تھی،مگر ان پرکبھی زکوۃ واجب نہ ہوئی،نیز اس حدیث کا متن بلاغت و لہجہ کے بھی خلاف ہے کہ الرحمن الرحیم پر وقف بہتر نہیں۔(مرقات وغیرہ)