۱؎ لیث ابن سعد مشہور تابعی فقیہ ہیں،مصر کے امام ہیں اور ابن ابی ملیکہ تابعی ہیں مکہ معظمہ کے قاضی تھے حضرت ابن زبیر کی طرف سے،آپ نے تیس صحابہ سے ملاقات کی ہے،یعلی ابن مملک بھی تابعین میں سے ہیں۔
۲؎ یعنی حضرت ام سلمہ نے خود قرأت کرکے سنائی تو اس قرأت شریف میں دو خوبیاں تھیں ایک تو نہایت ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تھی،دوسرے ہر حرف اپنے مخرج سے صحیح ادا ہوتا تھا۔ معلوم ہوا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بڑی قاریہ تھیں،ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأۃ کی نقل نہ کرسکتیں۔ حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ مجھے ترتیل سے ایک سورۃ تلاوت کرنا بغیر ترتیل کے سارا قرآن پڑھنے سے زیادہ پسند ہے،زیادہ حسن اچھا ہے،ایک موتی،ہزار ہا روپیہ سے بہتر ہوتاہے۔