۱؎ یعنی تلاوت قرآن جب مفید ہے جب کہ اس کے احکام پر ایمان ہو،ایمان کے بغیر نہ تلاوت مفید ہے نہ قرآن ساتھ رکھنا ا گرچہ سارے ہی محرمات کو حرام ماننا ضروری ہے،مگر چونکہ قرآن کریم بہت عظمت والا ہے،اس لیے خصوصیت سے اسی کا ہی ذکر فرمایا حلال و حرام پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے پھر تلاوت کا ثواب کیسے پائے،غذا،دوا،زندہ کو مفید ہے نہ کہ مردے کو۔
۲؎ اگرچہ حدیث بعض راویوں کی وجہ سے قوی نہ ہو،مگر قرآن مجید اس کی تائید فرمارہا ہے۔فرمایاہے:"اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا"۔