۱؎ یعنی دونوں طرح تلاوت جائز اور باعث ثواب ہے،جیسے دونوں طرح کا صدقہ خفیہ و علانیہ باعث ثواب ہے۔ رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ"مگر بعض حالات میں بلند تلاوت افضل ہے کہ اس سے دل بیدار ہوتا ہے دوسروں کو تلاوت کا شوق پیدا ہوتا ہے،نیند بھاگتی ہے شیطان دفع ہوتا ہے رحمان راضی ہوتا ہے،اور بعض حالات میں آہستہ تلاوت افضل ہے جب کہ تلاوت میں ریا کا اندیشہ ہو،یا کسی نمازی وغیرہ کو تکلیف ہو(مرقات و شامی)یہ اختلاف احکام ان تلاوتوں میں ہے جن میں جہر یا اخفاء واجب نہ ہو،ورنہ نماز ظہر و عصر میں اخفاء اور فجر وغیرہ میں جہر واجب ہے۔(لمعات و اشعہ)